ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2009 |
¾اكستان Ù |
|
اِس معاہدہ کی وجہ سے آنحضرت ۖ اور سارے بنوہاشم ١ اور بنو عبد المطلب تین سال تک دوپہاڑوں کے درمیان ایک گھاٹی میں رہے۔اِس تین برس میں اُن کو فاقوں پرفاقے گزرے ۔ مرد و عورت سب ہی بھوک سے بیتاب ہوکر روتے اور چیختے چلاتے تھے جس کی وجہ سے اُن کے والدین کو اور بھی زیادہ دُکھ ہوتا تھا۔ حضور ِاقدس ۖ کی بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور آپ ۖ کی اَولاد سب ہی اِس گھاٹی میں رہے اور دعوت ِدین کے لیے فاقے جھیلے اور مصیبت کے دِن کاٹے۔ آخر تین سال کے بعد معاہدہ والی تحریر کو دِیمک کھاگئی تب اُن حضرات کو اُس گھاٹی سے نکلنا نصیب ہوا۔ (البدایہ ) اِسلام کے فروغ میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مال بھی لگا : حضرت خدیجہرضی اللہ عنہا نے آنحضرت ۖ کی خدمت گزاری اوردِلداری میں بھی کوئی دقیقہ اُٹھا نہیں رکھا تھا اور اپنے مال کو بھی اِسلام اور دَاعی اِسلام کی ضروریات کے لیے اِس طرح پیش کردیا تھا جیسے اُس مال میں خود کو مالکیت کا حق ہی نہیں رہا۔ قرآن مجید میں اللہ جل شانہ نے آنحضرت ۖ کو خطاب فرمایاہے : وَوَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی اور تم کو اللہ نے بے مال والاپایا پس غنی کردیا۔اِس کی تفسیر میں مفسرین لکھتے ہیں: ای بمال خدیجة یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال کے ذریعہ غنی کردیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس جو مال تھا وہ آپ ۖ ہی کا سمجھتی تھیں اُن کے مال خرچ کرنے کے احسان کا آپ ۖکے دِل پر بہت اثرتھا۔ ایک مرتبہ اُن کے اِس اِحسان کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا وَاَعْطَتْنِیْ مَالَھَا فَاَنْفَقْتُہ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یعنی اُنہوں نے اپنا مال مجھے دیا جسے میں نے اللہ کے راہ میں خرچ کیا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مکّہ میں فروخت کیے جارہے تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اِن کو اپنے مال سے خرید کر آنحضرت ۖ کی خدمت میں پیش کردیا۔ آپ ۖ نے اِن کو آزاد کرکے اپنا بیٹا بنالیاتھا۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ بھی سابقین ِاوّلین میں سے ہیں۔ آنحضرت ۖ کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے ہیں۔ اُن کو غلامی سے چھڑا کر اِسلام کے کاموں میں لگادینے کا ذریعہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہی بنیں۔ ١ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب میں جو لوگ کافر تھے وہ بھی حمیت ِ قومی کی وجہ سے اس مصیبت میں شریک ہوئے اور آنحضرت ۖ کو قتل کرنے کے لیے حوالے کر دینے پر امادہ نہ ہوئے۔