ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2009 |
اكستان |
|
چھٹا سوال : مذکورہ مقامات پر کیا جانے والا رفع یدین جس کی غیرمقلدین حضرات اِس قدر شدومد کے ساتھ دعوت دیتے ہیں کیا حضور علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی اِن مقامات پر رفع یدین کرنے کی اِسی انداز سے دعوت دی تھی؟ کیا آپ ۖنے مذکورہ مقامات پر رفع یدین کرنے کا حکم دیا تھا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو کوئی ایک ایسی صحیح، صریح، مرفوع حدیث پیش فرمائیں جس سے ثابت ہو تا ہو کہ حضور علیہ السلام نے مذکورہ مقامات پر رفع یدین کرنے کی باقاعدہ دعوت دی تھی اور باقاعدہ اِس کا حکم دیا تھا کہ اِن مقامات پر رفع ِیدین کیاکرو۔ یاد رہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت کیا جانے والا رفع یدین اوّل تو غیر متنازع ہے اِس لیے اِس کاحکم ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں تاہم اگر کوئی اِس کے حکم کی حدیث طلب کرے تو وہ نصب الرایہ ج:١ ص:٣١٢ میں موجود ہے وہاں دیکھ لے۔ ساتواں سوال : حضور علیہ الصلوٰة والسلام کی سنتوں کو اپنانے والے اور نافذ کرنے والے آپ ۖ کے خلفاء ِراشدین ہیں جن کے بارے میں آپ ۖنے فرمایا ہے : '' عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّةِ الْخُلْفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِ یِّیِْنَ '' ١ میری اَور میرے خلفائِ راشدین کی سنت کو لازم پکڑو غیر مقلدین حضرات بتلائیں کیا خلفاء ِراشدین مذکورہ متنازع مقامات پر رفع یدین کیاکرتے تھے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو کوئی ایک صحیح ، صریح، غیر مجروح غیر معارض حدیث پیش کریں جس سے ثابت ہوتا ہو کہ خلفاء ِراشدین مذکورہ متنازع مقامات پر رفع یدین کیا کرتے تھے؟ آٹھواں سوال : صحیح اَحادیث سے ثابت ہے کہ حضور اکرم ۖ نے سجدوں کے درمیان بھی رفع یدین کیا ہے چنانچہ خود غیر مقلدین کی کتاب فتاوٰی علماء اہل ِحدیث ج:٤ میں اِن احادیث کو صحیح قرار دیا گیا ہے ٢ اِسی پر بس نہیں اِس کو حضور علیہ السلام کا آخری عمل اور سنت کہا گیا ہے اور اس پر عمل کرنے والے کو ١ مسندِ احمد،ترمذی،ابوداو'د،ابن ماجہ بحوالہ مشکٰوة ص:٣٠ ٢ غیر مقلدین کے نامور عالم مولانا محمد رئیس ندوی بھی سجدوں کے درمیان رفع یدین کرنے کی احادیث کو صحیح قرار دیتے ہیں ،تفصیل کے لیے دیکھیے موصوف کی کتاب ''رسولِ اکرم کا صحیح طریقہ نماز '' ص :٣٥٣ اور ٤٥٤