ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2009 |
اكستان |
|
مردہ سنت کا زندہ کرنے والا اور سو شہیدوں کے اَجر کا مستحق قرار دیا گیاہے، پھر کیا وجہ ہے کہ غیر مقلدین حضرات سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کرتے؟ اگر وہ کہیں کہ سجدوں والا رفع یدین منسوخ ہوچکا ہے تو ہمارا اُن سے مطالبہ ہے کہ وہ کوئی ایک صحیح، صریح، مرفوع حدیث پیش کریں جس سے ثابت ہوتا ہو کہ سجدوں والا رفع ِیدین منسوخ ہوچکا ہے اور اﷲ کے نبی ۖ نے اِس سے منع فرمادیا ہے۔ (یاد رہے کہ غیر مقلدین کے مذکورہ بالا فتاوٰی کی کتاب میں کہا گیا ہے کہ سجدوں والی رفع یدین کا کوئی ناسخ موجود نہیں ہے) ۔ نواں سوال : غیر مقلدین حضرات کا معمول ہے کہ اگر امام کے پیچھے اِن کی کوئی رکعت رہ جاتی ہے تو وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑے ہوکر رفع یدین کرتے ہیں، ہمارا غیر مقلدین حضرات سے مطالبہ ہے کہ وہ کوئی ایک صحیح، صریح، مرفوع حدیث پیش کریں جس سے ثابت ہوتا ہو کہ اﷲ کے نبی ۖ نے ایسا کیا تھا اور اِس کا حکم دیا تھا اور اگر ایسی کوئی حدیث نہیں ہے تو پھر غیرمقلدین حضرات بتلائیں کہ وہ یہ رفع یدین کس کے کہنے پر کرتے ہیں؟ دسواں سوال : صحیح احادیث ١ میں حضور علیہ الصلوٰة والسلام سے تکبیر تحریمہ کے علاوہ باقی مقامات پر رفع یدین نہ کرنا بھی آیا ہے۔ ہمارا غیر مقلدین سے سوال ہے کہ وہ اُن احادیث کوعوام سے کیوں چھپاتے ہیں؟ اُن پر عمل کیوں نہیں کرتے ؟کیا یہ حدیثیں نہیں ہیں؟ اگر وہ کہیں کہ یہ حدیثیں ضعیف ہیں تو سوال یہ ہے کہ اُن کو ضعیف کس نے کہا ہے؟ اﷲ تعالیٰ نے یا اﷲ کے نبی ۖنے ؟اگر اِن میں سے کسی نے کہا ہے تو قرآن پاک کی کوئی آیت یا کوئی ایسی صحیح ، صریح، مرفوع حدیث پیش کریں جس سے ثابت ہوتا ہو کہ اﷲ یا اﷲ کے نبی ۖ نے کہا ہے کہ رفع یدین نہ کرنے والی حدیثیں ضعیف ہیں اُن پر عمل نہ کرنا، کسی اُمتی کا قول نہ ہو کیونکہ غیر مقلدین حضرات کے نزدیک صرف قرآن وحدیث حجت ہیں، دلیل میں صرف وہی پیش کیے جاسکتے ہیں اور کسی اُمتی کی بات بلا دلیل ماننا تقلید ہے اور تقلید شرک ہے۔ ١ یاد رہے کہ حضرت عبد اﷲ بن مسعود کی ترک رفع یدین والی حدیث کو امام ترمذی نے'' حسن'' اورعلامہ ابن حزم نے'' صحیح'' قرار دیا ہے، اسی طرح اِس حدیث کو حافظ احمد شاکر اور علامہ البانی نے بھی ''صحیح ''قرار دیا ہے، ایسے ہی علامہ شعیب الارنؤوط، علامہ زہیر الشاویش ،ڈاکٹر عبدالمعطی قلعجی بھی اِسے'' صحیح'' سمجھتے ہیں۔