Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2009

اكستان

60 - 64
مردہ سنت کا زندہ کرنے والا اور سو شہیدوں کے اَجر کا مستحق قرار دیا گیاہے، پھر کیا وجہ ہے کہ غیر مقلدین حضرات سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کرتے؟ اگر وہ کہیں کہ سجدوں والا رفع یدین منسوخ ہوچکا ہے تو ہمارا اُن سے مطالبہ ہے کہ وہ کوئی ایک صحیح، صریح، مرفوع حدیث پیش کریں جس سے ثابت ہوتا ہو کہ سجدوں والا رفع ِیدین منسوخ ہوچکا ہے اور اﷲ کے نبی  ۖ نے اِس سے منع فرمادیا ہے۔ (یاد رہے کہ غیر مقلدین کے مذکورہ بالا فتاوٰی کی کتاب میں کہا گیا ہے کہ سجدوں والی رفع یدین کا کوئی ناسخ موجود نہیں ہے) ۔
نواں سوال  :  غیر مقلدین حضرات کا معمول ہے کہ اگر امام کے پیچھے اِن کی کوئی رکعت رہ جاتی ہے تو وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑے ہوکر رفع یدین کرتے ہیں، ہمارا غیر مقلدین حضرات سے مطالبہ ہے کہ وہ کوئی ایک صحیح، صریح، مرفوع حدیث پیش کریں جس سے ثابت ہوتا ہو کہ اﷲ کے نبی  ۖ نے ایسا کیا تھا اور اِس کا حکم دیا تھا اور اگر ایسی کوئی حدیث نہیں ہے تو پھر غیرمقلدین حضرات بتلائیں کہ وہ یہ رفع یدین کس کے کہنے پر کرتے ہیں؟ 
دسواں سوال  :  صحیح احادیث  ١  میں حضور علیہ الصلوٰة والسلام سے تکبیر تحریمہ کے علاوہ باقی مقامات پر رفع یدین نہ کرنا بھی آیا ہے۔ ہمارا غیر مقلدین سے سوال ہے کہ وہ اُن احادیث کوعوام سے کیوں چھپاتے ہیں؟ اُن پر عمل کیوں نہیں کرتے ؟کیا یہ حدیثیں نہیں ہیں؟ اگر وہ کہیں کہ یہ حدیثیں ضعیف ہیں تو سوال یہ ہے کہ اُن کو ضعیف کس نے کہا ہے؟ اﷲ تعالیٰ نے یا اﷲ کے نبی  ۖنے ؟اگر اِن میں سے کسی نے کہا ہے تو قرآن پاک کی کوئی آیت یا کوئی ایسی صحیح ، صریح، مرفوع حدیث پیش کریں جس سے ثابت ہوتا ہو کہ اﷲ یا اﷲ کے نبی  ۖ نے کہا ہے کہ رفع یدین نہ کرنے والی حدیثیں ضعیف ہیں اُن پر عمل نہ کرنا، کسی اُمتی کا قول نہ ہو کیونکہ غیر مقلدین حضرات کے نزدیک صرف قرآن وحدیث حجت ہیں، دلیل میں صرف وہی پیش کیے جاسکتے ہیں اور کسی اُمتی کی بات بلا دلیل ماننا تقلید ہے اور تقلید شرک ہے۔
  ١  یاد رہے کہ حضرت عبد اﷲ بن مسعود کی ترک رفع یدین والی حدیث کو امام ترمذی نے'' حسن'' اورعلامہ ابن حزم نے'' صحیح'' قرار دیا ہے، اسی طرح اِس حدیث کو حافظ احمد شاکر اور علامہ البانی نے بھی ''صحیح ''قرار دیا ہے، ایسے ہی علامہ شعیب الارنؤوط، علامہ زہیر الشاویش ،ڈاکٹر عبدالمعطی قلعجی بھی اِسے'' صحیح'' سمجھتے ہیں۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 اِنسان گناہ کیوں کرتا ہے ؟ : 6 3
5 گناہوں کا اعتراف ضروری ہے مگر صرف اللہ کے سامنے : 7 3
6 بار بار گناہ کرنے والوں میں یا توبہ کرنے والوں میں شمار ہو گا ؟ : 8 3
7 اللہ کی رحمت نہ ہو تو معمولی بات بھی بڑاگناہ بن سکتی ہے : 9 3
8 دربارِ رسالت ۖ کا اَدب : 9 3
9 بڑی غلطی وہ ہے جو اللہ کی نظر میںبڑی ہو : 10 3
10 ملفوظات شیخ الاسلام 11 1
11 وفیات 12 1
12 حضرت عائشہ کی عمر اور حکیم نیاز احمد صاحب کا مغالطہ 13 1
13 حضرت اَقدس کا خط 19 1
14 حضرت اِبراہیم رضی اللہ عنہ 21 1
15 بو بکر و عمر ، عثمان و علی رضی اللہ عنہم 31 1
16 تربیت ِ اَولاد 32 1
17 بچوں کی پرورش سے متعلق احادیث ِنبویہ 32 16
18 بچوں کی پرورش میں مصیبتیں جھیلنے اوردُودھ پلانے کی فضیلت : 32 16
19 لڑکیوں کی پرورش کرنے کی فضیلت : 33 16
20 حمل ساقط ہوجانے اورزچہ بچہ کے مر جانے کی فضیلت : 33 16
21 دفن کے بعد اَذان کہنے کا مسئلہ 35 1
22 دفن کے بعد شرعی طور پر کیا کرنا چاہیے ؟ : 35 21
23 حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے نزع کے وقت اپنے بیٹے کو وصیت میں فرمایا 35 21
24 ۔ اصل اَشیاء میں حرمت ہے یا اَباحت یا توقف؟ 45 21
25 گلدستہ ٔ اَحادیث 46 1
26 پانچ دُعائیں قبول کی جاتی ہیں : 46 25
27 حضور علیہ الصلوة والسلام پانچ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے : 46 25
28 حضور اَکرم ۖ کی طرف سے پانچ چیزو ں کا حکم : 47 25
29 ماہِ صفرکے اَحکام اور جاہلانہ خیالات 48 1
30 ماہِ صفر کا ''صفر'' نام رکھنے کی وجہ : 48 29
31 ماہِ صفر کے ساتھ ''مظفَّر''لگانے کی وجہ : 48 29
32 ماہِ صفر کے متعلق نحوست کا عقیدہ اور اُس کی تردید : 49 29
33 ماہِ صفر سے متعلق بعض روایات کا تحقیقی جائزہ : 51 29
34 ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اوراُس سے متعلق بدعات : 52 29
35 بریلوی مکتبہ فکر کے اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب کا فتویٰ : 54 29
36 غیر مقلدین حضرات سے رفع ِیدین سے متعلق دس سوالات 56 1
37 دینی مسائل 61 1
38 ( طلاق دینے کا بیان ) 61 37
39 طلاقِ صریح اور طلاقِ بائن سے متعلق ایک ضابطہ : 61 37
40 رُخصتی سے قبل طلاق کا بیان : 61 37
41 بقیہ : دفن کے بعد اَذان کہنے کا مسئلہ 62 21
Flag Counter