Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2009

¾اكستان Ù

58 - 64
میں جاتے اُٹھتے اور دُوسرے سجدہ میں جاتے اُٹھتے) رفع یدین نہیں کرتے، غیر مقلدین حضرات سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ ایک صحیح، صریح، مرفوع حدیث جو غیر مجروح اور غیر معارض ہو پیش کریں جس سے ثابت ہوتا ہو کہ اﷲ کے نبی حضرت محمد  ۖ چار رکعات والی نماز میں مذکورہ دس مقامات پر کندھوں تک رفع یدین کرتے تھے اور باقی اَٹھارہ مقامات پر رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ یاد رہے کہ مثبت ومنفی دونوں پہلو ایک حدیث میں ہونے چاہییں جیسا کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کی ترکِ رفع یدین سے متعلق حدیث میں مُثْبَتْ ومَنْفِی دونوں پہلو اکٹھے ہیں چنانچہ آپ فرماتے ہیں  :
'' کیا میں تمہیں حضور علیہ السلام کی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں پھر آپ نے نماز پڑھی اور پہلی مرتبہ یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کیا پھرکسی اور جگہ نہیں کیا۔''  ١
 اِس حدیث میں تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرنے کا اور باقی مقامات میں نہ کرنے کا ذکر ہے ۔
پانچواں سوال  :  غیر مقلدین حضرات مذکورہ متنازع مقامات پر رفع ِیدین کے اثبات میں جتنی حدیثیں پیش کرتے ہیں اولاً تو اُن میں کوئی ایک حدیث بھی مذکورہ شرائط کے مطابق ایسی نہیں جس سے دس مقامات پر رفع یدین کرنا اور اَٹھارہ مقامات پر رفع یدین نہ کرنا ثابت ہوتا ہو، ثانیاً اُن احادیث سے صرف اِتنا ثابت ہوتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰة والسلام نے مذکورہ مقامات پر رفع یدین کیا ہے اِسے ہم بھی مانتے ہیں اِس میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اختلاف اِس میں ہے کہ اِن متنازع مقامات پر رفع یدین باقی بھی رہا یا نہیں؟   غیرمقلدین حضرات بقاء ودوامِ رفع یدین کے مُدَّعِیْ ہیں اُن کا دعوٰی ہے کہ اِن مقامات پر حضور علیہ الصلوٰة والسلام ہمیشہ رفع یدین کرتے رہے ہیں، ہمارا غیر مقلدین حضرات سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنے دعوے کے مطابق کوئی ایک صحیح، صریح، مرفوع حدیث پیش کریں جس سے ثابت ہوتا ہو کہ حضور علیہ الصلوٰة والسلام ہمیشہ وفات تک رفع یدین کرتے رہے۔
یاد رہے کہ یہ سوال اِس لیے کیا جاتا ہے کہ مذکورہ مقامات پر کیا جانے والا رفع یدین متنازع ہے ، اِس میں دونوں طرح کی حدیثیں ملتی ہیں کرنے کی بھی نہ کرنے کی بھی اگر یہ تکبیر تحریمہ کے وقت کیے جانے والے رفع یدین کی طرح غیرمتنازع ہوتا تو پھر اِس سوال کی ضرورت نہ ہوتی ۔
    ١    نسائی ج :١  ص:١١٧

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 اِنسان گناہ کیوں کرتا ہے ؟ : 6 3
5 گناہوں کا اعتراف ضروری ہے مگر صرف اللہ کے سامنے : 7 3
6 بار بار گناہ کرنے والوں میں یا توبہ کرنے والوں میں شمار ہو گا ؟ : 8 3
7 اللہ کی رحمت نہ ہو تو معمولی بات بھی بڑاگناہ بن سکتی ہے : 9 3
8 دربارِ رسالت ۖ کا اَدب : 9 3
9 بڑی غلطی وہ ہے جو اللہ کی نظر میںبڑی ہو : 10 3
10 ملفوظات شیخ الاسلام 11 1
11 وفیات 12 1
12 حضرت عائشہ کی عمر اور حکیم نیاز احمد صاحب کا مغالطہ 13 1
13 حضرت اَقدس کا خط 19 1
14 حضرت اِبراہیم رضی اللہ عنہ 21 1
15 بو بکر و عمر ، عثمان و علی رضی اللہ عنہم 31 1
16 تربیت ِ اَولاد 32 1
17 بچوں کی پرورش سے متعلق احادیث ِنبویہ 32 16
18 بچوں کی پرورش میں مصیبتیں جھیلنے اوردُودھ پلانے کی فضیلت : 32 16
19 لڑکیوں کی پرورش کرنے کی فضیلت : 33 16
20 حمل ساقط ہوجانے اورزچہ بچہ کے مر جانے کی فضیلت : 33 16
21 دفن کے بعد اَذان کہنے کا مسئلہ 35 1
22 دفن کے بعد شرعی طور پر کیا کرنا چاہیے ؟ : 35 21
23 حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے نزع کے وقت اپنے بیٹے کو وصیت میں فرمایا 35 21
24 ۔ اصل اَشیاء میں حرمت ہے یا اَباحت یا توقف؟ 45 21
25 گلدستہ ٔ اَحادیث 46 1
26 پانچ دُعائیں قبول کی جاتی ہیں : 46 25
27 حضور علیہ الصلوة والسلام پانچ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے : 46 25
28 حضور اَکرم ۖ کی طرف سے پانچ چیزو ں کا حکم : 47 25
29 ماہِ صفرکے اَحکام اور جاہلانہ خیالات 48 1
30 ماہِ صفر کا ''صفر'' نام رکھنے کی وجہ : 48 29
31 ماہِ صفر کے ساتھ ''مظفَّر''لگانے کی وجہ : 48 29
32 ماہِ صفر کے متعلق نحوست کا عقیدہ اور اُس کی تردید : 49 29
33 ماہِ صفر سے متعلق بعض روایات کا تحقیقی جائزہ : 51 29
34 ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اوراُس سے متعلق بدعات : 52 29
35 بریلوی مکتبہ فکر کے اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب کا فتویٰ : 54 29
36 غیر مقلدین حضرات سے رفع ِیدین سے متعلق دس سوالات 56 1
37 دینی مسائل 61 1
38 ( طلاق دینے کا بیان ) 61 37
39 طلاقِ صریح اور طلاقِ بائن سے متعلق ایک ضابطہ : 61 37
40 رُخصتی سے قبل طلاق کا بیان : 61 37
41 بقیہ : دفن کے بعد اَذان کہنے کا مسئلہ 62 21
Flag Counter