ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2009 |
¾اكستان Ù |
|
میں جاتے اُٹھتے اور دُوسرے سجدہ میں جاتے اُٹھتے) رفع یدین نہیں کرتے، غیر مقلدین حضرات سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ ایک صحیح، صریح، مرفوع حدیث جو غیر مجروح اور غیر معارض ہو پیش کریں جس سے ثابت ہوتا ہو کہ اﷲ کے نبی حضرت محمد ۖ چار رکعات والی نماز میں مذکورہ دس مقامات پر کندھوں تک رفع یدین کرتے تھے اور باقی اَٹھارہ مقامات پر رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ یاد رہے کہ مثبت ومنفی دونوں پہلو ایک حدیث میں ہونے چاہییں جیسا کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کی ترکِ رفع یدین سے متعلق حدیث میں مُثْبَتْ ومَنْفِی دونوں پہلو اکٹھے ہیں چنانچہ آپ فرماتے ہیں :
'' کیا میں تمہیں حضور علیہ السلام کی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں پھر آپ نے نماز پڑھی اور پہلی مرتبہ یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کیا پھرکسی اور جگہ نہیں کیا۔'' ١
اِس حدیث میں تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرنے کا اور باقی مقامات میں نہ کرنے کا ذکر ہے ۔
پانچواں سوال : غیر مقلدین حضرات مذکورہ متنازع مقامات پر رفع ِیدین کے اثبات میں جتنی حدیثیں پیش کرتے ہیں اولاً تو اُن میں کوئی ایک حدیث بھی مذکورہ شرائط کے مطابق ایسی نہیں جس سے دس مقامات پر رفع یدین کرنا اور اَٹھارہ مقامات پر رفع یدین نہ کرنا ثابت ہوتا ہو، ثانیاً اُن احادیث سے صرف اِتنا ثابت ہوتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰة والسلام نے مذکورہ مقامات پر رفع یدین کیا ہے اِسے ہم بھی مانتے ہیں اِس میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اختلاف اِس میں ہے کہ اِن متنازع مقامات پر رفع یدین باقی بھی رہا یا نہیں؟ غیرمقلدین حضرات بقاء ودوامِ رفع یدین کے مُدَّعِیْ ہیں اُن کا دعوٰی ہے کہ اِن مقامات پر حضور علیہ الصلوٰة والسلام ہمیشہ رفع یدین کرتے رہے ہیں، ہمارا غیر مقلدین حضرات سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنے دعوے کے مطابق کوئی ایک صحیح، صریح، مرفوع حدیث پیش کریں جس سے ثابت ہوتا ہو کہ حضور علیہ الصلوٰة والسلام ہمیشہ وفات تک رفع یدین کرتے رہے۔
یاد رہے کہ یہ سوال اِس لیے کیا جاتا ہے کہ مذکورہ مقامات پر کیا جانے والا رفع یدین متنازع ہے ، اِس میں دونوں طرح کی حدیثیں ملتی ہیں کرنے کی بھی نہ کرنے کی بھی اگر یہ تکبیر تحریمہ کے وقت کیے جانے والے رفع یدین کی طرح غیرمتنازع ہوتا تو پھر اِس سوال کی ضرورت نہ ہوتی ۔
١ نسائی ج :١ ص:١١٧