ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2009 |
اكستان |
|
سکتی ہے۔ مسئلہ : شوہر نے ایسی عورت کو کہا کہ تجھ کو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے تو طلاق کے پہلے لفظ سے عورت پر طلاقِ بائن پڑجاتی ہے اور چونکہ ایسی عورت کے لیے طلاق کی عدت بھی نہیں ہوتی اِس لیے طلاق کے باقی دو لفظ لغو ہوئے۔ مسئلہ : اَلبتہ اگر شوہر پہلی ہی دفعہ یوں کہہ دے کہ تجھ کو دوطلاق یا تجھ کو تین طلاق تو جتنی دی ہیں سب پڑگئیں۔ مسئلہ : اگر شوہر نے خلوت ِصحیحہ کے بعد لیکن صحبت سے پیشتر طلاق دی تو وہ طلاقِ بائن ہوئی۔ خلوتِ صحیحہ کی وجہ سے عدت آئے گی۔ اِس عدت میں مزید طلاق دی تو وہ بھی واقع ہو جائے گی۔ (جاری ہے) بقیہ : دفن کے بعد اَذان کہنے کا مسئلہ اِس روایت کی روشنی میں اَذانِ قبر کے متعلق آپ لوگوں کی کیا رائے ہے؟ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے شرح مشکٰوة ج١ ص ٣٦ پر ایک ذرّیں اُصول بیان فرمایا ہے کہ : ''تابعداری جس طرح کرنے کے کاموں میں ضروری ہے اِسی طرح چھوڑنے کے کاموں میں بھی ضروری ہے پس جو شخص ایسے کام کو ہمیشہ کرے جسے صاحب ِ شریعت نے نہ کیا وہ بدعتی ہوتا ہے۔'' بالکل یہی عبارت مرقاة شرح مشکٰوة حدیث ِ اوّل کی شرح میں موجود ہے۔ بھائی مسلمانوں! غور کرو آنحضرت ۖ کے زمانہ میں اَذان بھی موجود تھی اَور دفن ِ میت کا دستور بھی پھر آپ ۖ کا اَذان کو چھوڑدینا ہی اِس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے لیے بھی اِس کا چھوڑنا ضروری ہے اَور جو شخص نہ چھوڑے گا وہی بدعتی ہوگا۔ وماعلینا الا البلاغ ۔