ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2008 |
¾اكستان Ù |
|
میں داخل کر دیتی ہے جس کے نتیجہ میں وہ ساری خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں جو کمرشل اِنشورنس میں موجود ہیں۔ دُوسری صورت یہ ہے کہ پالیسی ہولڈر اپنے دیے گئے تبرع کی بنیاد پر نقصان کی تلافی کا دعویٰ نہ کرے بلکہ وقف کے اپنے طے شدہ قواعد و ضوابط کو بنیاد بنا کر اِس بات کا دعویٰ کرے کہ میں اِن قواعد کی بنیاد پر وقف کی طرف سے تلافیٔ نقصان کا حقدار ہوں… پالیسی ہولڈر شرعًا اِس طریقے پر اپنا قانونی حق استعمال کرسکتا ہے اور اُس کا یہ قانونی حق اِس صورت کو عقد معاوضہ میں داخل نہیں کرتا۔ (تکافل ص 104,105) صمدانی صاحب کی اِس عبارت کا حاصل یہ ہے کہ پالیسی ہولڈر کا اگر قانونی حق بھی تسلیم کرلیا جائے تو اِس کے استعمال کا مذکورہ دُوسرا طریقہ جائز ہے جو معاوضہ کے مفہوم سے خالی ہے۔ ہم کہتے ہیں : جب واقف کی شرائط کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور پالیسی لینے کو بھی قانونی حیثیت حاصل ہے تو یہ کہنا بھی دُرست ہے کہ وقف پر لازم ہوجاتا ہے کہ شرط پوری ہونے پر وہ پالیسی ہولڈر کے نقصان کی تلافی کرے۔ اور یہ کہنا بھی دُرست ہے کہ پالیسی ہولڈر کو عقلاً و شرعًا حق ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی طریقے سے اپنا قانونی حق حاصل کرے خواہ صمدانی صاحب کی ذکر کردہ پہلی صورت سے یا اُن کی ذکر کردہ دُوسری صورت سے۔ اِس کا بیان یہ ہے کہ واقف کی شرائط کا تعلق دو چیزوں سے قائم ہوا ہے ایک پالیسی ہولڈر کے چندہ یا پریمیم ادا کرنے سے اور دُوسرا وقف کی طرف سے تلافی نقصان سے۔ اِس لیے پالیسی ہولڈر کو اختیار ہے کہ وہ اِن دو میں سے کسی بھی تعلق کا حوالہ دے کر تلافی کا مطالبہ کرے۔ غرض وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میں نے فلاں وقت وقف پول کو اِتنی رقم کا پریمیم دیا تھا جس کی وجہ سے میرے نقصان کی تلافی کرنا وقف کے ذمہ لازم ہے اور یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ وقف کے قواعد و ضوابط کی بنیاد پر میں نقصان کی تلافی کا حقدار ہوں،اور دونوں صورتوں میں وقف فنڈ اور پالیسی ہولڈر کے درمیان معاملہ کے عقد معاوضہ ہونے میں کچھ اشکال نہیں رہتا۔ معاملہ کے عقد معاوضہ ہونے پر مندرجہ ذیل دو باتیں بھی واضح دلیل ہیں : -i چندے کی کمی و زیادتی کی بنیاد پر نقصان کی تلافی کی کمی و زیادتی۔