ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2008 |
¾اكستان Ù |
|
تھا : '' اَلْقُرْآنُ کَلَامُ اللّٰہِ غَیْرُ مَخْلُوْقٍ مَنْ زَعَمَ لَفْظِی بِالْقُرْآنِ مَخْلُوْق فَھُوَ مُبْتَدِع لَایُجَالَسُ وَلَایُتَکَلَّمُ وَمَنْ ذَھَبَ بَعْدَ ھَذَا اِلٰی مُحَمَّدِ بْنِ اِسْمَاعِیْلَ فَاتَّہِمُوْہ فَاِنَّہُ لَا ےَحْضُرُ مَجْلِسَہ اِلَّا مَنْ کَانَ عَلٰی مَذْہَبِہ۔''(الطبقات الشافعیہ الکبری)۔ نہ صرف امام ذہلی نے امام بخاری کوترک کیابلکہ اُن کے اَقران امیرالمومنین فی الحدیث ابوزراعہ راوی اورامامِ کبیرابوحاتم الرازی نے بھی اُن کوترک کردیااوراُن کی روایات کوترک کردیا(کتاب الجرح والتعدیل ابن ابی حاتم) اورابن ابی حاتم نے امام بخاری کے تاریخی اوہام پر ایک کتاب کتاب خطأ البخاری لکھی۔ علامہ سخاوی نے اعلان التوبیخ میں لکھا : '' لابن ابی حاتم جزء کبیرعندی انتقد فیہ البخاری''۔ 54 ۔ امام ذہلی نے امام بخاری کو منع کردیاتھا کہ مجھ سے کوئی روایت بیان نہ کریں۔ مگر بخاری میں امام ذہلی سے بقول حافظ ابن حجر34 روایات آتی ہیں مگرکہیں بھی اُن روایات میں محمدبن یحییٰ ذہلی نہیں کہاکبھی حدثنامحمدکبھی حدثنامحمدابن عبداللہ کبھی حدثنامحمدبن خالدذکرکیاہے۔ عبداللہ ذہلی کے دادا ہیں اور خالد پردادا۔ ''وَمَا ھَذَ ا اِلَّا التَّدْلِیْس''۔علامہ خزرجی نے ذہلی کے ترجمے میں امام بخاری کے متعلق ''یدلّسہ ''ہی کہاہے۔ 55۔ امام مسلم نے اپنی کتاب میں اپنے شیخ امام بخاری سے ایک بھی روایت نہیں لی۔ امام ترمذی نے اپنی کتاب ترمذی جوکتاب المذاہب ہے ایک جگہ بھی امام بخاری کے مسلک کا ذکرنہیں کیا۔ اِسی طرح اور صحاح کے مصنفین نے شاذونادرہی کوئی روایت امام بخاری سے نقل کی ہے۔ 56 ۔ ہم اصح الکتب کے عنوان سے نیچے بات ہی نہیں کرتے۔لیکن امام مسلم نے اُس کے وجودہی کو تسلیم نہیںکیاامام بخاری کو لاکھوں روایتیں یادتھیں۔ امام مسلم نے بارہ ہزاراَحادیث بیان کی ہیں دو چار تو امام بخاری سے ہونی چاہیے تھیں۔ 57 ۔ ایک دفعہ حافظ ابوالعباس بن عقدہ سے کسی نے سوال کیا '' اَیُّمَا اَحْفَظُ الْبُخَارِیْ اَوْمُسْلِم؟''توبے حداِصرارکے بعداُنہوں نے جواب دیا ''یَقَعُ لِمُحَمَّدٍ اَلْغَلَطُ فِیْ اَہْلِ الشَّامِ وَ ذَالِکَ لِاَنَّہُ اَخَذَ کُتُبَہُمْ وَنَظَرَ فِیْہَا فَرُبَمَا ذَکَرَ بِکُنِّےَتِہ وَیَذْکُرُفِیْ مَوْضَعٍ آخَرَ بِاِسْمِہ