ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2008 |
اكستان |
|
یہ حدیث عَبْدُالرَّزَّاقِ عَن مَّعْمَرٍعنَ ِالزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَةَ ہے ۔ مصنف عبدا لرزاق میں سنداِتنی ہی ہے یعنی مرسل عروہ ہے۔ لیکن مسلم میں عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّ زَّاقِ عَنْ مَّعْمَرٍعَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ہے یعنی عبدالرزاق سے نیچے صرف عبدبن حمیدکااضافہ ہے جومسلم کے اُستادہیں۔ روایت صرف تعبیرکے اختلاف کے ساتھ وہی ہے جومصنف میں ہے۔ لُعَبُھَا مَعَھَا دونوں میں ہے۔ مسلم کے اُستادعبدبن حمیدنے یہ تصر ف کیا ہے کہ مرسل کوموصول بنادیا، مسلم نے یہ غفلت برتی کہ ''مصنف''کی طرف سے رجوع نہ کیا ورنہ معلوم ہوجاتاکہ اَصل روایت مرسَل ہے۔ اِس روایت کوائمہ حدیث میں سے کسی نے قبول نہیں کیا۔ مسندامام احمد میں بھی یہ روایت نہیں ہے۔ ہشام کی اصل روایت جس کوتمام اربابِ صحابہ نے (سوائے ترمذی کے) قبول کیاہے اُس میں کسی روایت میں بھی یہ جملہ نہیں ہے اِس روایت ِزہری کا عبدالرزاق کے سوااورکوئی راوی نہیںہے حتّٰی کہ یہ روایت ''جامع معمر''میں بھی نہیں ہے۔ اِس سے صاف ظاہرہے کہ یہ اضافہ عبدالرزاق کاہے۔ محدثین اِسے اضافۂ ثقہ سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں مگرمیرے نزدیک یہ اضافہ بغض ِعائشہ کی بناپرکیاگیاہے تاکہ اُن کوبالکل بچی ثابت کیاجائے اوربچپن کی وجہ سے قطعاًبے اعتبارثابت کیاجائے ۔ عبدالرزاق کے متعلق اُن کے معاصرین کے اَقوال نقل کردیے ہیں اُن میں سے ایک قول زیدبن مبارک کاہے۔ جب حدیث ابن الحدثان میں آئی اورحضرت علی اورحضرت عباس کے متعلق حضرت عمر کایہ قول پڑھاکہ تواپنی بیوی کی میراث لینے آگیا اور یہ اپنے بھتیجے کی میراث لینے آگیا توعبدالرزاق نے حضرت عمر کے متعلق کہا انظرالی ھذاالانوک جب یہ شخص اَکابر صحابہ کے متعلق اِتنا بے باک ہے اورہم صرف حقیقت ِحال ظاہرکریں توگستاخ۔ آخرعمرمیں تو سب ہی نے عبدالرزاق کو ناقابل ِاعتمادقرار دے دیاتھا، حافظہ خراب ہوگیاتھا نابینا ہوگئے تھے غلط سلط حدیثیں بیان کرتے تھے۔ اِن کی وفات ٢١١ھ میں ہوئی ہے۔ امام احمد کاقول ہے کہ جس نے اِن سے علٰی رَأْسِ الْمِأَتَیْنِ سنا ناقابل اعتبارہے۔ زیادہ کیاتصدیق کروں۔ وَالْبَاقِیْ عِنْدَ التَّلاقِیْ اِنْ شَائَ اللّٰہُ ۔ دُعاء گو و دُعاء جو نیاز احمد (جاری ہے)