ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2005 |
اكستان |
|
حج : ایک عاشقانہ فریضہ ( حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ) حج کرنا جس شخص میں شرطیں پائی جائیں اُن پر فرض ہے اوردوسروں کے لیے نفل اورحج بھی مثل نماز، زکٰوة ،روزہ کے اسلام کا ایک رکن یعنی بڑی شان کا لازمی حکم ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ''اور اللہ کے واسطے لوگوں کے ذمہ اس مکان یعنی کعبہ کا حج کرنا ہے یعنی اُس شخص کے ذمہ جو کہ طاقت رکھے وہاں تک پہنچنے کی سبیل یعنی سامان کی ''۔ (سورہ آل عمران رکوع : ١٠ آیت : ١٩٧ ) ارشاد فرمایا رسول اللہ ۖ نے کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کے علاوہ چارچیزیں اورفرض کی ہیں پس جوشخص ان میں سے تین کو ادا کرے تو اس کو پورا کام نہ دیں گی جب تک سب کو ادا نہ کرے یعنی نماز ، زکٰوة ، رمضان کے روزے اوربیت اللہ کا حج۔ ( احمد ملخصاً)اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر نماز وزکٰوة وروزہ سب ادا کرتاہو مگر فرض شدہ حج ادانہ کیا ہو تو اُس کی نجات کے لیے کافی نہیں۔ اورحج میں ایک خاص بات ایسی ہے جو اور عبادتوں میں نہیں ، وہ یہ ہے کہ اور عبادتوں کے افعال میں کچھ عقلی مصلحتیں بھی سمجھ میں آجاتی ہیں ، مگر حج کے افعال میں بالکل عاشقانہ شان ہے، تو حج وہی کرے گا جس کا عشق عقل پر غالب ہوگا اور اگر فی الحال اس میں کچھ کمی بھی ہوگی تو تجربہ سے ثابت ہے کہ عاشقانہ کام کرنے سے عشق پیدا ہو جاتا ہے اس لیے حج کرنے سے یہ کمی پوری ہو جائے گی اورخاص کر جب ان کاموں کو اسی خیال سے کرے اورظاہر ہے کہ جس کے دل میں خدا تعالیٰ کا عشق ہوگا وہ دین میں کتنا مضبوط ہوگا۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ''بیت اللہ کے گرد پھرنا اور صفا ومروہ کے درمیان پھیرے کرنا، اورکنکریوں کا مارنا، یہ سب اللہ تعالیٰ کی یاد قائم کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے ''۔ (ابوداود) یعنی گوظاہر میں دیکھنے والوں کو تعجب ہو سکتا ہے کہ اس گھومنے ، دوڑنے اورکنکریاں مارنے میں عقلی مصلحت کیا ہے؟ مگر تم مصلحت مت ڈھونڈو، یوں سمجھو کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے ، اس کے کرنے سے اس کی یاد ہوتی ہے اوراُس سے علاقہ بڑھتا ہے، اورمحبت کا امتحان ہوتا ہے کہ جو بات عقل میں بھی نہیں آتی ، حکم سمجھ کر اُس کو بھی مان لینا پھر محبوب کے گھر کے ذرہ ذرہ پر قربان ہونا، اس کے کوچہ میں بھی دوڑے پھرنا کھلم کھلا عاشقانہ حرکات ہیں۔