Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2005

اكستان

47 - 64
حج  :  ایک عاشقانہ فریضہ 
( حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ)
	حج کرنا جس شخص میں شرطیں پائی جائیں اُن پر فرض ہے اوردوسروں کے لیے نفل اورحج بھی مثل نماز، زکٰوة ،روزہ کے اسلام کا ایک رکن یعنی بڑی شان کا لازمی حکم ہے۔ 
	فرمایا اللہ تعالیٰ نے ''اور اللہ کے واسطے لوگوں کے ذمہ اس مکان یعنی کعبہ کا حج کرنا ہے یعنی اُس شخص کے ذمہ جو کہ طاقت رکھے وہاں تک پہنچنے کی سبیل یعنی سامان کی ''۔ (سورہ آل عمران رکوع  :  ١٠  آیت  :  ١٩٧ ) 
	ارشاد فرمایا رسول اللہ  ۖ نے کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کے علاوہ چارچیزیں اورفرض کی ہیں پس جوشخص ان میں سے تین کو ادا کرے تو اس کو پورا کام نہ دیں گی جب تک سب کو ادا نہ کرے یعنی نماز ، زکٰوة ، رمضان کے روزے اوربیت اللہ کا حج۔ ( احمد ملخصاً)اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر نماز وزکٰوة وروزہ سب ادا کرتاہو مگر فرض شدہ حج ادانہ کیا ہو تو اُس کی نجات کے لیے کافی نہیں۔
	اورحج میں ایک خاص بات ایسی ہے جو اور عبادتوں میں نہیں ، وہ یہ ہے کہ اور عبادتوں کے افعال میں کچھ عقلی مصلحتیں بھی سمجھ میں آجاتی ہیں ، مگر حج کے افعال میں بالکل عاشقانہ شان ہے، تو حج وہی کرے گا جس کا عشق عقل پر غالب ہوگا اور اگر فی الحال اس میں کچھ کمی بھی ہوگی تو تجربہ سے ثابت ہے کہ عاشقانہ کام کرنے سے عشق پیدا ہو جاتا ہے اس لیے حج کرنے سے یہ کمی پوری ہو جائے گی اورخاص کر جب ان کاموں کو اسی خیال سے کرے  اورظاہر ہے کہ جس کے دل میں خدا تعالیٰ کا عشق ہوگا وہ دین میں کتنا مضبوط ہوگا۔
	حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ۖ نے فرمایا کہ ''بیت اللہ کے گرد پھرنا اور صفا ومروہ کے درمیان پھیرے کرنا، اورکنکریوں کا مارنا، یہ سب اللہ تعالیٰ کی یاد قائم کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے ''۔ (ابوداود) یعنی گوظاہر میں دیکھنے والوں کو تعجب ہو سکتا ہے کہ اس گھومنے ، دوڑنے اورکنکریاں مارنے میں عقلی مصلحت کیا ہے؟ مگر تم مصلحت مت ڈھونڈو، یوں سمجھو کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے ، اس کے کرنے سے اس کی یاد ہوتی ہے اوراُس سے علاقہ بڑھتا ہے، اورمحبت کا امتحان ہوتا ہے کہ جو بات عقل میں بھی نہیں آتی ، حکم سمجھ کر اُس کو بھی مان لینا پھر محبوب کے گھر کے ذرہ ذرہ پر قربان ہونا، اس کے کوچہ میں بھی دوڑے پھرنا کھلم کھلا عاشقانہ حرکات ہیں۔ 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 حضرت حاطب کا خاندانی پس منظر : 5 3
5 ایک تدبیر : 6 3
6 اس تدبیر کا نقصان : 6 3
7 نبی علیہ السلام کو آگاہی : 6 3
8 جامہ تلاشی کی دھمکی : 7 3
9 اپنی صفائی : 7 3
10 دربارِ رسالت سے حضرت حاطب کی تصدیق : 7 3
11 حضرت حاطب بدری تھے : 7 3
12 اہلِ بدر اور حدیبیہ والوں کی فضیلت کی ایک اور مثال : 8 3
13 صحابہ کرام کو آقا کی بے ادبی برداشت نہ تھی : 9 3
14 اُس شخص کا صحابہ کرام کے بارے میں ابتدائی تاثیر : 9 3
15 صحابہ کرام کا نبی علیہ السلام کے ساتھ تعظیم کا معاملہ : 10 3
16 اُس شخص کا صحابہ کرام کے بارے میں آخری تأثر : 10 3
17 تحویلِ قبلہ 11 1
18 شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمة اللہ علیہ 15 1
19 (١ ) تعلیم : 16 18
20 (٢ ) تزکیہ : 17 18
21 (٣ ) علمی انہماک : 17 18
22 (٤ ) اُستاذکی خدمت : 18 18
23 (٥ ) مِلّت کی فکر : 19 18
24 (٦ ) جذبۂ خدمت : 19 18
25 (٧) اخلاق ِفاضلہ : 22 18
26 ثمرات ونتائج : 23 18
27 (١) بے مثال محبوبیت : 24 18
28 (٢) فیض ِعام : 24 18
29 (٣) اَبدی زندگی : 24 18
30 حج کی عظمت وفضیلت 26 1
31 جرمنی میں ٥٥ سالہ خاتون کے گھرتیرھویں بچے کی پیدائش 30 1
32 وفیات 31 1
33 حج : ایک عاشقانہ فریضہ 47 1
34 کارگذاری سفر مظفرآباد وبالاکوٹ 53 1
35 گلدستہ ٔ احادیث 56 1
36 جنت اور جہنم کو واجب کرنے والی دوباتیں 56 35
37 دو قسم کے لوگوں کا جہاد 57 35
38 دینی مسائل 58 1
39 ( خاص حالات کی کچھ نمازیں ) 58 38
40 نمازِاستسقاء : 58 38
41 نماز کسوف وخسوف : 58 38
42 نماز ِ خوف : 59 38
43 خانقاہ ِحامدیہ اور رمضان المبارک 62 1
Flag Counter