ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2005 |
اكستان |
|
آپ کا یہ خادمانہ پہلو نمایاں نظر آتاتھا۔ اس زمانہ میں جبکہ سفر کے اسباب ووسائل آج کے دورکی طرح آسانی سے فراہم نہیں تھے حضرت شیخ الاسلام نے انتہائی پُر مشقت، متواتر ، طویل وعریض اسفار فرماکر اللہ کے بندوں کی صحیح رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ۔ اِن اسفار میں اگر کوئی خادم آپ کے ساتھ ہوتا تو آپ اُس کے ساتھ بھی ایسا معاملہ فرماتے کہ وہ خود شرمسار ہوکر رہ جاتا۔ مولانا عبدالماجد دریابادی جو نیاز مند بن کر آپ کی بارگاہ میں پہنچے تھے اُنھوں نے کیامنظر دیکھا ، اُنہیں کی دلکش زبان میں ملاحظہ کیجئے ! ''دوسروں کو شاید کام لینے میں وہ لطف نہ آتا ہو جو اِن مولانا کو دوسروں کا کام کردینے میں آتا ہے، گھر پر آکر ملئے تو آپ کے لیے کھانا اپنے ہاتھ سے جا کر لائیں ، آپ کے لیے بستر بچھا دیں ،سفر میں ساتھ ہوجائیے تو دوڑکر آپ کے لیے ٹکٹ لے آئیں قبل اِس کے کہ آپ ٹکٹ گھر کے قریب بھی پہنچ سکیں ، تانگہ کا کرایہ آپ کی طرف سے ادا کردیںاور آپ کا ہاتھ اپنی جیب میں پیسہ ٹٹولتا ہی رہ جائے۔ریل پر آپ کابستر کھول کر بچھا ئیں ، آپ ہی لوٹے میں پانی لے آئیں ،آپ کا سامان اپنے ہاتھ میں اُٹھانے لگیں ۔ تین دن کے قیام دیوبند میں روایتیں مشاہدہ بن کر رہیں اور شنیدہ دیدہ میں تبدیل ہوکر ، الخ''۔ (حکیم الامت ١٣) ایک اور جگہ لکھتے ہیں : ''دیوبند جائیے تو مولانا اسٹیشن پر پیشوائی کے لیے موجود ۔ چلنے لگئے تواسٹیشن تک مشایعت پر آمادہ ،کھانا کھانے بیٹھئے تو وہ لوٹالیے ہاتھ دُھلانے کو کھڑے ہوئے، پانی مانگئے تو گلاس لیے خود حاضر، تانگہ کا کرایہ وہ اپنے پاس سے دے دیں، ریل کا ٹکٹ وہ دوڑ کرلے آئیں ۔ ہوٹل میں کھانا کھائیے تو بل وہ خود ادا کردیں، سفر میں ساتھ ہوتو بستر وہ کھول کر بچھا دیں، غرض مالی اوربدنی خدمت کی جتنی صورتیں ہوسکتی تھیں سب میں مرید تو مراد کے درجہ پر پہنچ گیا اورجو صاحب مراد واِرشاد تھا وہ حکم برداری اورچاکری میں لگا ہوا۔ (حکیم الامت ١٦) دینی خدمت آپ کو سب سے زیادہ محبوب تھی۔ مکتوبات میں جگہ جگہ اِس بات کا ذکر ہے کہ اصلاح خلق اور تبلیغ اسلام کی انجام دہی سب سے بڑی سعادت ہے۔ آپ نے سلہٹ کے دورِ قیام میں یہ دینی خدمت جن ناموافق حالات میں انجام دی ہے اُس کے بیان کا یہ موقع نہیں ہے لیکن جس شخص نے سلہٹ اوراس کے اطراف