Deobandi Books

حیات دائمی کی راحتیں

ہم نوٹ :

23 - 38
مشرق، مغرب، شمال، جنوب کو سرخ کرتا ہے  تو اللہ تعالیٰ اس   کے دل کے ہر اُفق کو بے شمار  آفتاب ِ معرفت عطا فرماتا ہے ، آفتابِ محبت عطا فرماتا ہے، آفتابِِ قربِ ولایتِ خاصہ عطا فرماتا ہے،آفتابِ ولایتِ صدیقیت  نصیب فرماتا ہے۔ڈاکٹر عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ایک شعر یاد آگیا   ؎
جب کبھی وہ اِدھر سے گزرے  ہیں 
کتنے  عالم   نظر  سے   گزرے   ہیں
یعنی جب خالقِ عالم قلب کی گلیوں میں آئیں گے تو سارے  عالم کو ساتھ لائیں گے۔میرے    شیخ شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ  نے یہ عجیب و غریب واقعہ سنایا کہ   ایک شخص           رند مشرب،  حسن پرست، بدنگاہی کا شدید  مریض  جب اس نے گناہوں سے توبہ کرلی اور  خونِ آرزو کی مشق کرلی اور دنیاوی لیلاؤں سے دستبرداری کرلی، یہ ہے علامتِ وفاداری۔جو دنیاوی لیلاؤں سے  حکمِ الٰہی سمجھ کر  دستبرداری کرلے کہ اللہ تعالیٰ  نے فرمایا ہےقُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ  اَبۡصَارِہِمۡ8؎ اے نبی! مومنین سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں۔تو اس وفاداری کے صدقے میں جب اس کو اللہ تعالیٰ،مولائے کائنات اپنے قربِ خاص  وتجلیات ِ خاص کے ساتھ  قلب میں محسوس ہوا  کہ دل میں کوئی آگیا ہے    ؎
یہ کون آیا   کہ دھیمی  پڑ  گئی  لو  شمع محفل   کی
پتنگوں  کے عوض اُڑنے لگیں چنگاریاں  دل کی
خواجہ صاحب نے جونپور میں حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا تھا کہ حضرت جب مولیٰ دل میں آتاہے تو کیا اس کو پتا چل جاتا ہے کہ آج میرے قلب میں  مولیٰ آگیا ہے؟ تو حضرت تھانوی نے فرمایا کہ خواجہ صاحب جب آپ بالغ ہوئے  تھے  تو کیا آپ   کو دوستوں سے پوچھنا پڑا تھا  کہ  یارو بتاؤ   عزیز الحسن   بالغ ہوایا نہیں؟  یا آپ کو اپنے بلوغ کا خود احساس ہوگیا تھا؟ آپ کی رفتار بدل گئی ، گردن کے نشیب و فراز اور گفتار  اور رفتار  اور کردار سب بدل گئے۔ جب روح بالغ ہوتی ہے   اور اللہ کو پاجاتی ہے   تو اس کی رفتار بدل جاتی ہے، اس کا
_____________________________________________
8؎   النور:30
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 روزِ محشر دوبارہ زندہ ہونے پر ایک اشکال کا جواب 7 1
4 تخلیقِ انسانی کا عجیب و غریب غیبی نظام 8 1
5 روزِ محشر انسانی اجسام کے اجزائے منتشرہ کا جمع ہونا 10 1
6 مدینہ منورہ میں موت پر بشارت 10 1
7 جمعہ کے دن میں موت کی فضیلت 11 1
8 اللہ تعالیٰ کی زمان، مکان اور انسان کو افضلیت دینے کی قدرت 12 1
9 صحبتِ اہل اللہ کے فوائد کی تمثیل 13 1
10 جمعہ کے دن موت کی فضیلت حاصل کرنے کا نسخہ 13 1
11 اللہ تعالیٰ کے فضل کی مثال 14 1
12 جگر مرادآبادی کے تائب ہونے کا قصہ 14 1
13 اُمیدِ رحمتِ الٰہیہ 15 1
14 اللہ تعالیٰ کی شانِ جذب کی ایک مثال 16 1
15 ماں کی محبت اللہ تعالیٰ کی ادنیٰ بھیک کا صدقہ ہے 17 1
16 توبہ کی فضیلت 17 1
17 تقویٰ اختیار کرنے پر ولایت کی بشارت 18 1
18 اللہ وظائف سے نہیں تقویٰ سے ملتا ہے 18 1
19 اجتنابِ معصیت پر عطائے نسبت 18 1
20 حفاظتِ نظر کا حکم انسانی فطرت کے عین مطابق ہے 19 1
21 نعمتِ قربِ الٰہی افضلِ نعمائے عالم ہے 19 1
22 زخمِ حسرت پر حلاوتِ ایمانی کی بشارت 20 1
23 معیتِ الٰہیہ کے درجات 21 1
24 ناپاک عشق کی تمام منازل ناپاک ہیں 21 1
25 زخمِ حسرتِ حسنِ نامعلوم 22 1
26 طلوعِ آفتابِ قربِ الٰہی 22 1
27 اللہ کے قربِ عظیم کا انعام 24 1
28 ایمان کی دو اقسام 24 1
29 بارگاہِ الٰہی میں نااُمیدی نہیں ہے 25 1
30 اللہ تعالیٰ خالقِ رحمتِ مادرِ کائنات ہیں 26 1
31 ولی اللہ بننے کا نسخہ 27 1
32 حفاظتِ نظر کی بہ نسبت نظر بازی میں زیادہ تکلیف ہے 28 1
33 حلاوتِ ایمانی کے اثرات 29 1
34 اعمال کی قدر وقیمت اسی دنیاوی زندگی میں ہے 30 1
35 اہل اللہ کا بے مثل جذبۂ ندامت 30 1
36 ضرورتِ شیخ کی ایک مثال سے وضاحت 31 1
37 تقویٰ میں کمی سے تعلق مع اللہ میں کمی کا تعلق 32 1
38 اہلِ علم کے لیے صحبتِ اہل اللہ کی ضرورت 33 1
Flag Counter