حیات دائمی کی راحتیں |
ہم نوٹ : |
|
مشرق، مغرب، شمال، جنوب کو سرخ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کے ہر اُفق کو بے شمار آفتاب ِ معرفت عطا فرماتا ہے ، آفتابِ محبت عطا فرماتا ہے، آفتابِِ قربِ ولایتِ خاصہ عطا فرماتا ہے،آفتابِ ولایتِ صدیقیت نصیب فرماتا ہے۔ڈاکٹر عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ایک شعر یاد آگیا ؎ جب کبھی وہ اِدھر سے گزرے ہیں کتنے عالم نظر سے گزرے ہیں یعنی جب خالقِ عالم قلب کی گلیوں میں آئیں گے تو سارے عالم کو ساتھ لائیں گے۔میرے شیخ شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ عجیب و غریب واقعہ سنایا کہ ایک شخص رند مشرب، حسن پرست، بدنگاہی کا شدید مریض جب اس نے گناہوں سے توبہ کرلی اور خونِ آرزو کی مشق کرلی اور دنیاوی لیلاؤں سے دستبرداری کرلی، یہ ہے علامتِ وفاداری۔جو دنیاوی لیلاؤں سے حکمِ الٰہی سمجھ کر دستبرداری کرلے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ 8؎ اے نبی! مومنین سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں۔تو اس وفاداری کے صدقے میں جب اس کو اللہ تعالیٰ،مولائے کائنات اپنے قربِ خاص وتجلیات ِ خاص کے ساتھ قلب میں محسوس ہوا کہ دل میں کوئی آگیا ہے ؎ یہ کون آیا کہ دھیمی پڑ گئی لو شمع محفل کی پتنگوں کے عوض اُڑنے لگیں چنگاریاں دل کی خواجہ صاحب نے جونپور میں حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا تھا کہ حضرت جب مولیٰ دل میں آتاہے تو کیا اس کو پتا چل جاتا ہے کہ آج میرے قلب میں مولیٰ آگیا ہے؟ تو حضرت تھانوی نے فرمایا کہ خواجہ صاحب جب آپ بالغ ہوئے تھے تو کیا آپ کو دوستوں سے پوچھنا پڑا تھا کہ یارو بتاؤ عزیز الحسن بالغ ہوایا نہیں؟ یا آپ کو اپنے بلوغ کا خود احساس ہوگیا تھا؟ آپ کی رفتار بدل گئی ، گردن کے نشیب و فراز اور گفتار اور رفتار اور کردار سب بدل گئے۔ جب روح بالغ ہوتی ہے اور اللہ کو پاجاتی ہے تو اس کی رفتار بدل جاتی ہے، اس کا _____________________________________________ 8؎النور:30