Deobandi Books

داستان اہل دل

ہم نوٹ :

11 - 42
خونِ تمنا کی عظمت
اہلِ ظاہر سمجھتے ہیں کہ خونِ تمنا ایک مصیبت ہے، و اﷲ! اﷲ کے راستے میں اورخونِ آرزوئے حرام کرنے میں اتنی لذت ہے کہ سارے عالم کی لذت ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دو اور دوسری طرف اﷲ کے راستے کا ایک ذرّۂ غم رکھ دو تو وہ اَلَذّ ہے،عِنْدَ قُلُوْبِ الْعَارِفِیْنَ اﷲ والوں کے دلوں سے اس کو پوچھو، ان کے راستے کے ایک کانٹے کو سارے عالم کے پھول سلامِ احترامی پیش کریں تو بھی اﷲ کے راستے کے ایک کانٹے کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ یہ ہے رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْہِ2؎ عاشقوں کے نزدیک اﷲ تعالیٰ کے راستے کے قید خانے اَحَبّْ ہوتے ہیں۔ مقامِ عشقِ نبوت سے یہ جملہ جاری ہوا ہے کہ اے خدا! آپ کے راستے کا قید خانہ مجھے اَحَبّ ہے اس گناہ سے جس کی طرف مجھے بلایا جارہا ہے۔ تومیرے دل میں اﷲ تعالیٰ نے ایک جملہ عطا فرمایا جس کو الٰہ آباد میں میں نے پیش کیا، علمائے ندوہ بھی تھے اور مولاناشاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اﷲ علیہ بھی تھے جن کے بارے میں حضرت مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمۃاﷲ علیہ نے شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمۃاﷲ علیہ سے فرمایا کہ میرے نزدیک پورے ہندوستان میں سلسلۂ نقشبندیہ میں اتنا قوی تعلق مع اﷲ کسی کو حاصل نہیں ہے جتنا مولانا شاہ محمد احمد صاحب کو حاصل ہے، حضرت مفتی صاحب نے یہ مجھ سے خود فرمایا، میرے اور حضرت کے بیچ میں کوئی راوی نہیں ہے، اختر کو خود ان کی صحبتیں بہت زیادہ نصیب ہوئیں۔
ایک مرتبہ دورانِ مجلس اختر حضرت مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمۃ اﷲعلیہ کے بائیں طرف تھا، مولانا ابرارالحق صاحب اور دیگر بڑے بڑے علماء بھی موجود تھے اور مولانا شاہ محمد احمد صاحب پرتاب گڑھی رحمۃاﷲ علیہ تقریر فرمارہے تھے، تھوڑی دیر بعد حضرت پرتاب گڑھی خاموش ہوگئے بس حضرت مفتی صاحب نے جھک کر حضرت پرتاب گڑھی کی آنکھ دیکھی کیوں کہ وہ بالکل ان کے برابر تھے اورمیرے کان میں فرمایا کہ اب مولانا یہاں نہیں ہیں، اب مولانا دنیا میں نہیں ہیں، یہ لوگ جسم سے تو دنیا میں رہتے ہیں مگر ان کے قلب و روح اﷲ تعالیٰ سے وابستہ ہوتے ہیں۔ پھر تھوڑی دیر بعد حضرت دوبارہ تقریر فرمانے لگے۔
_____________________________________________
2؎   یوسف:33
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 میرا ہر شعر تاریخِ محبت ہے 8 1
3 اللہ پر پوراجہاں فدا کرنے کا مطلب 8 1
4 اللہ خونِ تمنا سے ملتا ہے 10 1
5 خونِ تمنا کی عظمت 11 1
6 عشقِ حقیقی کی تکمیل گناہ سے بچنے کاغم اُٹھانے سے ہوتی ہے 12 1
7 اللہ کی ہر وقت ایک نئی شان ہے 12 1
8 خونِ تمنا مطلع آفتابِ نسبت ہے 13 1
9 حسن پرستی قابل صد افسوس ہے 15 1
10 حسنِ فانی سے دل لگاناعلامتِ کر گسیَّت ہے 15 1
11 خونِ تمنا اور مقامِ ابراہیم ابنِ ادہمرحمۃ اللہ علیہ 16 1
12 ایک لطیفہ 17 1
13 خیانتِ عینیہ و قلبیہ دونوں سے بچنے کی تلقین 17 1
14 زندہ حقیقی بُری خواہشات کو مردہ کرنے سے ملتا ہے 19 1
15 تاثیر دردِ نہاں 20 1
16 داستانِ اہلِ دل کا سبق 21 1
17 حضرت والا کی صحبتِ اہل اللہ اور مجاہدات 21 1
19 حضرت والا کا ادبِ اساتذہ اور اُس کے ثمرات 23 1
20 محبت بے زباں کی سحر انگیزی 24 1
21 گلستانِ قربِ الٰہی کی یاد کا فیض 25 1
22 سببِ صحرا نوردی 25 1
23 بیانِ محبت کی کرامت 26 1
24 نسبت اہلِ نسبت ہی سے ملتی ہے 27 1
25 حدیث اِنَّ الدَّالَّ عَلَی الْخَیْرِکَفَاعِلِہٖ کی تشریح 28 1
26 حکمت کے ساتھ نصیحت کرتے رہنے کی ترغیب 29 1
27 داڑھی کے خلال کا مسنون طریقہ 29 1
28 حدیثِ مذکور سے متعلق ایک علمِ عظیم 31 1
29 بغیر صحبتِ شیخ کیفیتِ احسانیہ حاصل نہیں ہوسکتی 31 1
31 نگاہِ اولیاء رنگ لاتی ہے 32 1
32 مجاہدہ بقدرِ استطاعت فائدہ مند ہے 33 1
33 حضرت مولانا فضلِ رحمٰن گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہکا عشقِ شیخ 34 1
34 مشایخ کو ایک اہم نصیحت 34 1
35 اعمال کا وجود قبولیت پر موقوف ہے 35 1
36 اَذان کے بعد کی دعا اوراس کی شرح 36 1
37 عارفانہ اشعار وعظ سے کم نہیں 37 1
38 پیشِ لفظ 7 1
Flag Counter