اولیاء اللہ کی پہچان |
ہم نوٹ : |
|
آپ کو ان شاء اللہ وزارت بھی نہیں خرید سکتی، پورے بنگلہ دیش کاخزانہ بھی نہیں خرید سکتا۔ دیکھ لو حافظ شیرازی کا یہ ارشاد ؎ چو حافظ گشت بے خود کے شمارد بیک جو مملکت کاؤس و کے را جب حافظ شیرازی اللہ کے نام کی لذت سے مست ہو تا ہے تو مملکت کاؤس و کے کو ایک جو کے بدلے میں خریدنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ بتاؤ دوستو! گنے میں رس کون پیدا کرتا ہے جس رس سے چینی پیدا ہوتی ہے؟ مولا نا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎ اے دل ایں شکر خوشتریا آں کہ شکر سازد اے دل! یہ چینی زیادہ میٹھی ہے یا چینی کا پیدا کرنے والا زیادہ میٹھا ہے؟ مٹھائی کی دکانوں پر کھڑے نظر لگا رہے ہیں، دوسرے کے پیٹ میں اماشے (پیچش) پیدا کررہے ہیں بھئی! اللہ کو یاد کرو، ان کے نام میں اتنا مزہ ہے اتنامزہ ہے کہ ساری دنیا کے مزے بھول جاؤ گے ان شاء اللہ۔ بتاؤ ساری دنیا کا مزہ کون پیدا کرتا ہے؟ اللہ تو پوری کائنات کی تمام لذتوں کا مرکز سرچشمہ اور مخزن ہے، اس کا نامِ پاک سیکھنے کی مشق کرو، ان شاء اللہ بغیر الیکشن کے بادشاہت ملے گی، بغیر الیکشن کے آپ کواتنی دولت دل میں محسوس ہوگی کہ کسی مال دار کو آپ خاطر میں نہیں لائیں گے۔ ایک ولی اللہ لکھنؤمیں تھا، اس کا خادم ان کے مقام پر نہیں تھا، ایک مرتبہ بادشاہ ان سے ملنے آیا، خادم گھبرا گیا اور کانپتا ہوا آیا کہ حضرت بادشاہ آیا ہے، فرمایا: تو تو ایسا کانپ رہا ہے کہ میں سمجھا کہ میری گدڑی میں کوئی بڑی سی جوں نکل آئی ہے۔ جس کے دل میں اللہ آتا ہے جو تخت و تاج و سلطنت کی بھیک دینے والا ہے وہ بادشاہوں سے مرعوب ہوگا؟ ان کے تخت وتاج اس کے سامنے نیلام ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔دیکھو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے دلّی کی جامع مسجد میں فرمایا کہ اے مغل خاندان کے بادشاہو! جب تم مرو گے تو تمہارا تاج اُتار لیا جائے گا، قبر میں صرف کفن لے کر جاؤ گے، بادشاہت کا خزانہ اور تخت وتاج تمہارے ساتھ نہیں جائے گا، اے سلاطینِ مغل! ولی اللہ تم سے کہتا ہے کہ اِس ولی کے سینے میں ایک دل