اولیاء اللہ کی پہچان |
ہم نوٹ : |
|
آپ نے میرا دانت کیوں توڑ دیا؟ آپ نے کہا: اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے میری آنکھ کی روشنی نہیں ضایع کی، تو نے میرے کان کی سننے کی طاقت نہیں ضایع کی، اَلْحَمْدُ للہِ الَّذِیْ لَمْ یُذْھِبِ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ سے شکر ادا کیا۔ تو جب حافظ شیرازی کے والد نے سلطان نجم الدین کبریٰ کو بتایا کہ میرا ایک بیٹا پاگل ہے جو جنگلوں میں جا کر روتا رہتا ہے تو سلطان نجم الدین کبریٰ نے فرمایا کہ میں اسی پاگل کو ڈھونڈنے آیا ہوں۔ جب جنگل میں گئے تو دیکھا کہ حافظ شیرازی اللہ کی یاد میں رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اے خدا! آپ کا نام لینے میں اتنا مزہ آرہا ہے ؎ چو حافظ گشت بے خود کے شمارد بیک جو مملکت کاؤس و کے را اے اللہ! جب حافظ شیرازی تیرے نام سے مست ہوتا ہے تو ایک جو کے بدلے سلطنت کاؤس وکے کو خریدنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اس کو اللہ والا کہتے ہیں۔ آج کوئی پانچ سو ٹکہ، پانچ ہزارٹکہ، ایک لاکھ ٹکہ دے دے فوراًایمان بیچ دیتے ہیں، سینما کے افتتاح پر بسم اللہ لکھتے ہیں اور وہا ں جاکر دعا بھی کرتے ہیں، بتاؤ سینما کی آمدنی حرام ہے یا نہیں؟ سینما میں گانا بجانا ہوتا ہے یا نہیں؟ سرورِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت پر اُسترا چلتا ہے یا نہیں؟ لیکن جو بکاؤ ملّا ہوتا ہے، جو اللہ والوں کی صحبت نہیں اٹھاتا وہ جعلی بھی ہوتا ہے اور بکاؤ بھی ہوتا ہے، اس کو جو چاہے خرید لے لیکن جن لوگوں نے اللہ والوں کی جوتیاں اٹھائیں، بزرگوں کی صحبتیں اٹھائیں، ان کا ایمان ویقین پڑھے لکھے ملّاؤں سے زیادہ ہوتا ہے۔ کراچی میں ایک امام کو کہا گیا کہ چلو ہمارے سینما میں پیسے کے رجسٹر پر بِسْمِ اللہْ لکھ دو تو اس نے کہا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ دس کروڑ روپیہ بھی دو گے تو بھی میں نہیں جاؤں گا، حرام کام پر بِسْمِ اللہْ پڑھنے سے آدمی کافر ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی شراب پیتے ہوئے بِسْمِ اللہْ کہہ دے تو کافر ہوجائے گا، اسی طرح بدبودار جگہ پر اللہ کا نام لینے میں بھی خوفِ کفر ہے، اس لیے علمائے دین سے خاص کر کہتا ہوں کہ میرے پیارے معزز علمائے دین اور طلبائے کرام! اپنے علم پر ناز نہ کرو، اللہ والوں کی جوتیاں اٹھا کر اپنے ایمان و یقین کو اولیائے صدیقین کے مقام تک پہنچانے کی کوشش کرو پھر