اولیاء اللہ کی پہچان |
ہم نوٹ : |
|
اور وَحَبِّبْہُ اِلَی النَّاسِ 9؎ اور اپنی مخلوق میں اس کو محبوب بنادے کیوں کہ اگر عالم تو بڑا ہے مگر محبوب نہیں ہے تو اس کا علم مفید نہیں ہوگا اور اگر محبوب بہت ہے مگر جاہلِ مطلق ہے تو اس جاہل سے جہالت پھیلنے کا خطرہ ہے جیسے ایک اندھا دوسرے اندھے کی لاٹھی پکڑ کر چل رہا ہو تو دونوں گریں گےیا نہیں؟ تو پیر کس کو بنایا جاتا ہے جس کو ضروری علمِ دین حاصل ہو، جو اللہ تعالیٰ پر جان دیتا ہو،ہر گنا ہ سے بچتا ہو، حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہو اور آپ علیہ السلام کی ہر سنت پر عمل کرتاہو۔ میں اپنا شعر سناتا ہوں ؎ نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے داڑھی کو بڑھانے اور مونچھوں کو کٹانے کا حکم دوستو! ذرا سوچو تو سہی سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا کہ داڑھیوں کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو کٹاؤ تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل خوش کرنا چاہیےیا اپنی بیوی کا دل خوش کرنا چاہیے؟ اگر بیوی کہتی ہے کہ داڑھی نہیں رکھو تو بتاؤ بیوی کو خوش کر نا زیادہ کام آئے گا یاحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خوش کرنا کام آئے گا؟ ایک شخص دہلی گیا، وہاں ایران کا شاعر آیا ہوا تھا جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں نعت کہتا تھا، وہ حجام کے ہاں داڑھی منڈارہا تھا، دہلی والے نے کہا کہ آپ نے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عشق ومحبت میں اتنی عمدہ نعت کہی ہے پھر آپ داڑھی کیوں صاف کروا رہے ہیں، سنت پر استرا کیوں چلارہے ہیں؟ اُس نے شاعرانہ جواب دیا ؎ ریش می تراشم ولے دل کس را نمی تراشم کہ میں داڑھی چھیل رہا ہوں کسی کا دل نہیں چھیل رہا، کسی کے دل کو دُکھ نہیں دے رہا، اس شخص نے جو پہلے ہی جلا بھنا تھا کہا ؎ _____________________________________________ 9؎سیر اِعلام النبلاء:4/563 ۔588/وفیات الاعیان لابن خلکان 1/128۔ 129/ صور من حیاۃ التابعین لعبد الرحمن رأفت الباشا 2/6 -36