Deobandi Books

لا زوال سلطنت

§ہم نوٹ :

24 - 42
دوستو! روئے زمین پر جہاں کوئی اﷲ کی محبت کا درد لے کر رات دن گزار رہا ہو واﷲ! اس کی صحبت میں چند دن بیٹھ جاؤ،پھر بادشاہوں کے تخت و تاج نگاہوں سے گر جائیں گے، چاند و سورج نگاہوں سے گرجائیں گے۔ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ     ؎
گر  تو  مہر  و  ماہ   را   گوئی  خِفا
گر  تو  قدِ  سرو  را  گوئی  دوتا
اے خدا! آپ کی وہ شان ہے کہ اگر آپ سورج اور چاند کو کہہ دیں کہ تم بے نور ہو، تمہارے اندر کوئی روشنی نہیں ہے۔ اے خدا! اگر آپ سرو کے درخت کو جو بہت سیدھا ہوتا ہے،کہہ دیں کہ تمہارے قد و قامت میں کجی ہے، ٹیڑھا پن ہے اور     ؎
گر  تو  کان  و  بحر  را  گوئی  فقیر
گر تو چرخ  و  عرش  را گوئی حقیر
اے خدا! اگر آپ سونے کی کان کو اور سمندرکو، جہاں کروڑوں اربوں روپے کے موتی پیدا ہوتے ہیں،فرما دیں کہ تم فقیر ہو اور اے خدا! اگر آپ آسمان اور عرشِ اعظم جیسی عظیم الشان مخلوق کو کہہ دیں کہ تم حقیر ہو، تو مولانا رومی فرماتے ہیں   ؎
ایں  بہ  نسبت  با  کمالِ  تو  روا  است
ملک  و  اقبال  و  غناہا   مر   تو  راست
اے خدا!آپ کے کمال اور آپ کی شان کے مقابلے میں یہ سب واقعی ایسے ہیں، آپ کو زیبا ہے کہ اپنی مخلوق کو جو چاہے فرمادیں۔ ملک و اقبال و عزت آپ ہی کے لیے ہے اور کسی کے لیے نہیں ہے، مخلوق بہرحال مخلوق ہے، اسی لیے زمین و آسمان کے مقابلے میں اگر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ رکھ دیا جائے تو سارے زمین و آسمان سے زیادہ اس کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ ملّا علی قاری لکھتے ہیں کہ آسمان و زمین سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا وزن اس لیے بڑھ جاتا ہے کہ اُدھر لَا اِلٰہَ ہے اور اِدھر اِلَّااللہُ ہے، ایک طرف اﷲ ہے اور ایک طرف غیر اﷲ ہے، اسی لیے عرض کرتا ہوں کہ جس کے قلب میں اﷲ تعالیٰ آجاتے ہیں، جس کے قلب کو تعلق مع اﷲ کی دولت مل جاتی ہے، تو اس کو سورج اور چاند پھیکے نظر آتے ہیں، اس کے دل کو سورج اور چاند سے روشنی نہیں ملتی، اس کو اﷲ کے ذکر سے روشنی نظر آتی ہے۔ ایک شاعر کہتا ہے     ؎
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 قرآنِ پاک کا ترجمہ کرنا آسان کام نہیں ہے 7 1
4 قرآنِ پاک میں شانِ رحمت کی تعلیم 8 1
5 بچوں کو سزا دینے کے طریقے 9 1
6 بغیر سمجھے قرآنِ پاک پڑھنا بھی ثواب سے خالی نہیں 9 1
7 توبہ کرنا کسی حال میں نہیں چھوڑنا چاہیے 12 1
8 اہل اﷲ کا ذکر فرشتوں کے ذکر سے افضل ہے 15 1
9 قرآنِ پاک کا محض لغت سے ترجمہ کرنا گمراہی ہے 20 1
10 حضرت آدم علیہ السلام کے نسیان کو عصیان سے کیوں تعبیر کیا گیا؟ 21 1
11 حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں ایک تفسیری غلط فہمی کا ازالہ 22 1
12 اہل علم کا علم کب مؤثر ہوگا؟ 23 1
13 حقیقی محبت صرف اﷲ کے لیے خاص ہے 25 1
14 بدنظری سنکھیا سے بڑازہر ہے 26 1
15 ہر صاحبِ نسبت کا عالم الگ ہوتا ہے 28 1
16 مخلوق کو ایذا پہنچانے والا صاحبِ نسبت نہیں ہوسکتا 29 1
17 مذکورہ آیت میں ذکر اﷲ کی تفسیر 31 1
18 ذکر اﷲ کی پانچ تفسیریں 31 1
19 ذاکر اور غافل گناہ گار میں کیا فرق ہے؟ 32 1
20 اﷲ کے سواگناہوں کو کوئی معاف نہیں کرسکتا 34 1
21 گناہوں پر اصرار کی شرعی تعریف 35 1
23 اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کے اثرات 36 1
24 خاصانِ خدا گناہوں پر اصرار کیوں نہیں کرتے؟ 37 1
25 گناہوں سے بچنے کا نسخہ 38 1
26 اﷲ کا ذکر روح کی غذا ہے 38 1
27 قرآنِ پاک سے فرقۂمعتزلہ کے ایک عقیدے کا رد 10 1
28 اہل اﷲ سے تعلق کا ایک عظیم الشان ثمرہ 10 1
29 اﷲ کے نام کی لذت بے مثل ہے 16 1
30 تعزیت تین دن تک کیوں مسنون ہے؟ 17 1
31 ہر گناہ میں دوزخ کی خاصیت ہے 18 1
32 عاشقِ مجاز اور عاشقِ خدا کے آنسوؤں میں فرق 18 1
33 اﷲ والے سارے عالم سے بے نیاز ہوتے ہیں 27 1
34 صحبتِ اہل اﷲ کے فوائد کی عجیب مثالیں 14 1
Flag Counter