لا زوال سلطنت |
§ہم نوٹ : |
|
دوستو! روئے زمین پر جہاں کوئی اﷲ کی محبت کا درد لے کر رات دن گزار رہا ہو واﷲ! اس کی صحبت میں چند دن بیٹھ جاؤ،پھر بادشاہوں کے تخت و تاج نگاہوں سے گر جائیں گے، چاند و سورج نگاہوں سے گرجائیں گے۔ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ ؎ گر تو مہر و ماہ را گوئی خِفا گر تو قدِ سرو را گوئی دوتا اے خدا! آپ کی وہ شان ہے کہ اگر آپ سورج اور چاند کو کہہ دیں کہ تم بے نور ہو، تمہارے اندر کوئی روشنی نہیں ہے۔ اے خدا! اگر آپ سرو کے درخت کو جو بہت سیدھا ہوتا ہے،کہہ دیں کہ تمہارے قد و قامت میں کجی ہے، ٹیڑھا پن ہے اور ؎ گر تو کان و بحر را گوئی فقیر گر تو چرخ و عرش را گوئی حقیر اے خدا! اگر آپ سونے کی کان کو اور سمندرکو، جہاں کروڑوں اربوں روپے کے موتی پیدا ہوتے ہیں،فرما دیں کہ تم فقیر ہو اور اے خدا! اگر آپ آسمان اور عرشِ اعظم جیسی عظیم الشان مخلوق کو کہہ دیں کہ تم حقیر ہو، تو مولانا رومی فرماتے ہیں ؎ ایں بہ نسبت با کمالِ تو روا است ملک و اقبال و غناہا مر تو راست اے خدا!آپ کے کمال اور آپ کی شان کے مقابلے میں یہ سب واقعی ایسے ہیں، آپ کو زیبا ہے کہ اپنی مخلوق کو جو چاہے فرمادیں۔ ملک و اقبال و عزت آپ ہی کے لیے ہے اور کسی کے لیے نہیں ہے، مخلوق بہرحال مخلوق ہے، اسی لیے زمین و آسمان کے مقابلے میں اگر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ رکھ دیا جائے تو سارے زمین و آسمان سے زیادہ اس کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ ملّا علی قاری لکھتے ہیں کہ آسمان و زمین سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا وزن اس لیے بڑھ جاتا ہے کہ اُدھر لَا اِلٰہَ ہے اور اِدھر اِلَّااللہُ ہے، ایک طرف اﷲ ہے اور ایک طرف غیر اﷲ ہے، اسی لیے عرض کرتا ہوں کہ جس کے قلب میں اﷲ تعالیٰ آجاتے ہیں، جس کے قلب کو تعلق مع اﷲ کی دولت مل جاتی ہے، تو اس کو سورج اور چاند پھیکے نظر آتے ہیں، اس کے دل کو سورج اور چاند سے روشنی نہیں ملتی، اس کو اﷲ کے ذکر سے روشنی نظر آتی ہے۔ ایک شاعر کہتا ہے ؎