Deobandi Books

فضائل علم - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

19 - 54
فرمان عالی شان کا حاصل یہ ہے کہ پوری دنیا میں اللہ کی نسبت اور اللہ کے تعلق پر جس قدر کام ہوتے ہیں ان کو چھوڑ کر ساری دنیا اور جو بھی کچھ دنیا میں ہے سب ملعون اور مردود ہے خواہ کچھ بھی ہو اور کہیں بھی ہو ، فرد ہو یا جماعت، دولت ہو یا حکومت، اکثریت ہو ایا اقلیت صدارت ہو یا وزارت، فقیری ہو یا تونگری، غرضیکہ جو چیز بھی اللہ کے لئے نہ ہو اور اللہ کے تعلق پر استعمال نہ ہوتی ہو اور اللہ کی نسبت سے اس کا وجود یا بقاء نہ ہو اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کا کوئی دام نہیں میدان آخرت میں اس کا کچھ نہ ملے گا اور دنیا میں وہ چیزین ملعونیت کے دن گزار رہی ہیں۔
اللہ کی نسبت اور تعلق والی چیز دنیا میں کیا ہے (جو اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول اور قیمتی ہیں؟) اس کا جواب حدیث شریف میں بایں الفاظ موجود ہے الا ذکر اللہ وماوالاہ وعالم او متعلم یعنی اللہ کا ذکر اور وہ باتیں اور وہ چیزیں جو اللہ کے ذکر سے متعلق ہیں یہ سب اللہ کے یہاں مقبول ہیں ان کے بدلے میں بڑے بڑے اجور وثمرات ملیں گے علم دین کا واقف اور علم دین کا حاصل کرنے والا یعنی طالب علم بھی ذکر اللہ کے متعلقات میں ہے لیکن اس کی خصوصیت کے ساتھ رسول کریم  ﷺنے علیحدہ ذکر فرما کر علم دین اور اس کے علماء اور طلباء کی اہمیت اور افضلیت مستقل طور پر ظاہر فرمادی۔
چونکہ ذکر اللہ اور وہ قول وعمل جو اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہیںان کی مقبولیت اور محبوبیت اسی وقت تک ہے جب تک کہ علم دین کے مطابق ہیں اس لئے عالم ومتعلم کو علیحدہ ذکر فرمانا ضروری ہوا پھر چونکہ علم دین کا بقاء علماء دین اور متعلمین سے ہی ہے اس لئے بجائے علم کے عالم ومتعلم فرمادیا۔
اس زمانہ کے نام نہاد مسلمان سب سے زیادہ بغض ودشمنی علماء اور طلباء ہی سے رکھتے ہیں علماء پر کیچڑ اچھالنا ان تہمتیں باندھناان کی غیبتیں کرنا، ان کو برا کہنا، ان کے لئے برے القاب تجویز کرنا بہت عام اور دل چسپ مشغلہ بن گیا ہے جو طلبہ دینی مدارس میں پڑھتے ہیں اور برسہا برس دین متین کی تحصیل کے لئے خرچ کرتے ہیں ان پر پھبتیاں کسی جاتی ہیں جو حضرات عربی مدارس کا انتظام واہتمام کرتے ہیں اس سلسلے میں مالی کوشش کے لئے نکلتے ہیں ان کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، دین کے ان خادموں کو جہاں حضرات انبیاء کرامﷺکے علوم میرا ث میں ملے ہیں وہاں صبروضبط، تحمل بردباری کے بھی وارث ہیں امت ہی کے لئے دکھ اٹھاتے ہیں اور مانگ مانگ کر مدرسے چلاتے ہیں اور امت ہی برا کہتی ہے اگر ظرف کے کمزور ہوتے تو نادانوں اور دین کے دشمنوں کے اعتراضات اور حقارت آمیز فقرے سن کر خدمت دین کو چھوڑ بیٹھتے۔
آہ! یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جن کے وجود سے علوم دین اور اعمال دین زندہ ہیں (اور ان علوم واعمال کی وجہ سے عالم کا بقاء ہے) ان ہی کو گالیوں کا تختہ مشق بنایاجاتا ہے۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 تصحیح نیت اور اس کی اہمیت 1 1
3 مہاجر ام قیس 1 1
4 طالب علم کیا نیت کرے 2 1
5 دنیا حاصل کرنے کیلئے علم دین حاصل کرنا 3 1
6 علمیت جتانے یا معتقد بنانے کے لیے علم حاصل کرنا 4 1
7 علم دین کی ضرورت اور فرضیت 6 1
8 اصل علم تین چیزوں کا علم ہے 10 1
9 دینی سمجھ انعام عظیم ہے 14 1
10 علمائے دین قابل رشک ہیں 15 1
11 معلم ومبلغ کے لئے دعائیں اور عابد پر عالم کی فضیلت 16 1
12 علماء اور طلباء کا مرتبہ 18 1
13 علماء کا وجود علم کا وجود ہے 20 1
14 طالب علموں کے ساتھ حسن سلوک 20 1
15 علماء ورثۃ الانبیاء ہیں 21 1
16 علم دین صدقہ جاریہ ہے 24 1
17 سب سے بڑا سخی 26 1
18 علماء اور حفاظ شفاعت کرینگے 27 1
19 مسجدوں میں ذکر وعلم کے حلقے 29 1
20 عورتوں کی تعلیم وتبلیغ کے لئے وقت نکالنا 30 1
21 مومن کو علم دین کا حریص ہونا چاہیے 32 1
22 طلب علم کے لئے سفر کرنا 34 1
23 ایک فقیہ شیطان کیلئے ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے 38 1
24 کوئی طالب علم دین خسارہ میں نہیں 40 1
25 علم پر عمل کرنا 41 1
26 قرآن شریف سیکھنا سکھانا 45 1
27 قرآن پڑھ کر بھول جانا 46 1
28 قرآن مجید کو شکم پروری کا ذریعہ بنانا 47 1
29 اپنی رائے سے تفسیر بیان کرنا 50 1
Flag Counter