ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2015 |
اكستان |
|
قارئین نے ایک اِسلامی ملک کے مسلمان وزیر اعظم کی اپنی ہی تاریخ سے بے خبری کااَندازہ کر ہی لیا ہوگا ۔ اِس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے اَب دُوسری طرف ایک کافر اور ہندو لیڈر گاندھی جی کی مسلمانوں کی ''تحریک ِ خلافت '' کی اہمیت و حقانیت کے بارے میں آگہی اور بیداری بھی ملاحظہ فرمائیں اور فیصلہ کریں کیا مسلمانوں کے قائد ایسے ہی بے خبر ہونے چاہیئیں ؟ ؟ ١٩٢٤ء میں گاندھی جی لکھتے ہیں : ''اگر میں کوئی پیغمبر ہوتا اور مجھے غیب کا علم دیا گیا ہوتا اور میں جانتا کہ تحریکِ خلافت کا یہ اَنجام ہوگا تب بھی میں خلافت کی تحریک میں اِسی اِنہماک سے حصہ لیتا، خلافت کی یہی تحریک ہے جس نے قوم کو بیداری عطا کی ،اَب میں پھر اِسے سونے نہ دُوں گا۔''(تحریک ِ خلافت اَز قاضی محمد عدیل عباسی ص ٢٦٣) اَب آخر میں تحریکِ ریشمی رُومال کے قائد شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحب رحمة اللہ علیہ کی پُر درد تحریر بھی ملاحظہ فرمائیں جس میں وہ اپنے بعد آنے والے مسلمانوں کو اُن کی ذمہ داریوں کا اِحساس دِلاتے ہوئے اپنی چھینی ہوئی عظمت ِ رفتہ کو واپس لانے کی تلقین و نصیحت فرما رہے ہیں : ''پس اے فرزندانِ توحید ! میں چاہتاہوں کہ آپ اَنبیاء و مرسلین اور اُن کے وارثوں کے راستے پر چلیں اور جو لڑائی اِس وقت شیطان کی ذُرِّیت اور خدائے قدوس کے لشکروں میں ہو رہی ہے اُس میں ہمت نہ ہاریں اور یاد رکھیں کہ شیطان کے مضبوط سے مضبوط آہنی قلعے خدا وند ِقدیر کی اِمداد کے سامنے تارِ عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ہیں۔ ( اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْا اَوْلِیَآئَ الشَّیْطَانِ اِنَّ کَیْدَ الشَّیْطَانِ کَانَ ضَعِیْفًا ) ''اِیماندار تو خدا کے راستے میں لڑتے ہیں اور کافر شیطان کے راستے میں، پس تم شیطان کے مدد گاروں سے لڑو، بلا شبہ شیطان کی فریب کاری محض لَچر پوچ ہے۔ ''