ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2015 |
اكستان |
|
کو برداشت کر لیا کیونکہ وہ ظلوم و جہول تھا۔ '' یعنی زمین آسمان اور پہاڑ نہ بہیمی صفات رکھتے ہیں اور نہ مَلکوتی صفات کی اُن کے اَندر صلاحیت ہے، اِنسان میں بہیمی صفات فطری طور پر موجود ہیں اورمَلکوتی صفات بھی اُس کی فطرت میں وَدیعت فرمائی گئی ہیں تو اُس کو یہ اَمانت عطا فرمائی گئی تاکہ وہ صفات ِ خبیثہ سے پاک ہو کر مَلکوتی صفات حاصل کرلے ،''ظلوم'' کے بجائے ''عادِل'' ہو،'' جاہل'' کے بجائے ''عالِم'' بنے۔ سورۂ تین میں خدا وند ِعالم نے چند چیزوں کی قسمیں کھا کر اِرشاد فرمایا ہے : ( لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سَافِلِیْنَ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَھُمْ اَجْر غَیْرُ مَمْنُوْنٍ ) (سُورة التین: ٤ تا ٦ ) ''اِنسان کو ہم نے بہت ہی بہتر وضع عنایت فرمائی پھر اُس کو سب سے نیچے کے درجہ میں دھکیل دیا، مگر صرف وہ لوگ جو اِیمان لائے جنہوں نے نیک کام کیے اُن کے لیے ایسا اَجر ہے جس پر کوئی اِحسان نہیں جتایا جائے گا۔ '' یعنی اِنسان جس میں بہترین صلاحیت اور لطیف تر اِستعداد و دیعت کی گئی ہے اُس کی اَصل فطرت بیشک بہترین وضع پر ہوئی ہے اَب اگر اُس لطیف اِستعداد کو بیکار چھوڑ کر بہیمی صفات کا گرویدہ بنتا ہے طمع ،حرص، غضب، نفسانی شہوات کا دِلدادہ رہتا ہے تو اُس کو سب سے نیچے کے درجہ میں ڈالا جائے گا کہ اُس نے فطرت کی بہت بڑی نعمت کو قطعاً لغو اور بیکار کردیا لیکن اگر وہ اُس نعمت ِکبرٰی سے بہرہ اَندوز ہو کر اِیمان اور عملِ صالح پر کار بند ہوتا ہے تو اُس کے لیے خدا وند ِعالم کے ہاں بڑے بڑے اَجر اور مراتب ہیں۔واللہ اعلم۔ فلسفہ ٔ رمضان : اِس تمہیدکے بعد حجة الاسلام سیّدنا حضرت شاہ ولی اللہ صاحب قدس اللہ سرہ العزیز کی تقریر سے اِمداد لیتے ہوئے رمضان، روزہ، اِعتکاف اور شب ِقدر کا فلسفہ بیان کرتے ہیں،وَاللّٰہُ الْمُوَفِّقُ وَھُوَالْمُعِیْنُ ۔اور مضمون ہذا کے ساتھ اگر اُن تمثیلات کو بھی مِلا لیا جائے جو شعبان کے نمبر میں شب ِ برأت