ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2015 |
اكستان |
|
میں نے اِس پیرانہ سالی اور علالت و نقاہت کی حالت میں (جس کو آپ خود مشاہدہ فرمارہے ہیں) آپ کی دعوت پر اِس لیے لبیک کہا کہ میں اپنی ایک گمشدہ متاع کو یہاں پانے کا اُمیدوار ہوں۔ بہت سے نیک بندے ہیں جن کے چہروں پر نماز کا نور اور ذکر اللہ کی روشنی جھلک رہی ہے لیکن جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ خدا را جلد اُٹھو اور اِس اُمت ِمرحومہ کو کفار کے نرغے سے بچاؤ تو اُن کے دِلوں پر خوف و ہراس مسلط ہوجاتا ہے، خدا کا نہیں بلکہ چند ناپاک ہستیوں کا اور اُن کے سامانِ حرب و ضرب کا، حالانکہ اُن کو تو سب سے زیادہ جاننا چاہیے تھا کہ خوف کھانے کے قابل اگر کوئی چیز ہے تو وہ خدا کا غضب اور اُس کا قاہرانہ اِنتقام ہے اور دُنیا کی متاعِ قلیل خدا کی رحمتوں اور اُس کے اِنعامات کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ چنانچہ اِسی قسم کے مضمون کی طرف حق تعالیٰ شانہ نے اِن آیات میں اِرشاد فرمایا ہے : ( اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَھُمْ کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْق مِنْھُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَةِ اللّٰہِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً وَقَالُوْا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ لَوْ لَا اَخَّرْتَنَا اِلٰی اَجَلٍ قَرِیْبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْل وَّالْاٰخِرَةُ خَیْر لِّمَنِ اتَّقٰی وَلَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا اَیْنَمَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُشَیَّدَةٍ ) ''کیا تم نے اُن لوگوں کی طرف نظر نہیں کی جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ کو روکو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوة اَدا کرتے رہو پھر جب اُن پر جہاد فرض کیا گیا تو یکایک اُن میں کا ایک فریق ڈرنے لگا آدمیوں سے خدا کے برا بر یا اُس سے بھی زیادہ ! اور کہنے لگا کہ اے ہمارے پر ور دگار ! آپ نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا اور