ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2015 |
اكستان |
|
قارئین کرام ! کسی واقعے کی صد سالہ تقریبات منانا حیران کن نہیں لیکن اَفسوس کی بات تو یہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے بھی اِس جنگ کی یادگاری تقریب میں شرکت کی، وزیراعظم نواز شریف نے ''ترکی ''کی تقریب میں نہیں کی بلکہ لندن میں ہونے والی تاجِ برطانیہ اور دولت ِمشترکہ کی یادگاری تقریب میں شرکت کی۔ اِس تقریب میں وزیراعظم نے برطانیہ کی جانب سے ترکوں کے خلاف لڑتے ہوئے مارے جانے والے فوجیوں کی یادگار پر پھول بھی چڑھائے اور سر جھکا کر ایک منٹ کے لیے خاموشی بھی اِختیار کی۔ سوال یہ ہے کہ ایک منٹ کی اِس خاموشی کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے کیا سوچا ؟ کیا وزیراعظم نے ترکوں کے خلاف لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے برصغیر کے چودہ سو فوجیوں کے گناہ بخشنے کی دُعا مانگی ؟ کیا وزیراعظم نے خاموشی کے ایک منٹ میں کسی ایک لمحے بھی یہ سوچا کہ اُنہیں معرکہ گیلی پولی کے تناظر میں منعقدہ صد سالہ تقریب میں لندن کے بجائے اِستنبول جانا چاہیے تھا ؟ آخر وزیراعظم نے اِس ایک منٹ کی خاموشی میں کیا سوچا ؟ کیا وزیراعظم نے ایک لمحہ بھی یہ سوچا کہ پاکستان کو اپنا دُوسرا گھر کہنے والے ترکوں پر کیا گزرے گی ؟ سوال یہ بھی ہے کہ لندن میں معرکہ گیلی پولی کی یادگار پر اِختیار کی جانے والی یہ خاموشی عالمِ اِسلام کے سب سے طاقتور ملک کے حاکم کی جانب سے اِظہار ِندامت تھا یا یہ بے بسی کی زنجیروں میں جکڑے '' ایک غلام کی خاموشی'' تھی ؟ ''