ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2015 |
اكستان |
|
کی تقریر کاوہ حصہ ضرور کنندہ ہے جس میں اَتاترک نے جنگ کے خاتمے پر دُشمنوں کی لاشیں دفن کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا تم نے یہاں اپنا خون بہایا اور جانیں قربان کیںلیکن اب تم یہاں اَجنبی زمین میں نہیں بلکہ ایک دوست ملک کی مٹی میں سو رہے ہو اِس لیے سکون سے رہو اور فکر نہ کرو، اب یہاںجانیں قربان کرنے والوں کی باقیات مسلم اور مسیحی کی تفریق کے بغیر ساتھ ساتھ رہیں گی، اور وہ مائیں جنہوں نے اپنے بیٹے دُور دراز علاقوں سے یہاں لڑنے کے لیے بھیجے ، اپنے آنسو پونچھ ڈالیں کیونکہ اُن کے بیٹے اب ہمارے سینے میں دفن اور سکون میں ہیں، اِس زمین پر اپنی جانیں قربان کرنے کے بعد اب وہ ہمارے بیٹے بن چکے ہیں۔ ١ ترکوں کی جانب سے اِنسانیت کے اِحترام کے واضح پیغام کے باوجود اِس جنگ میں مارے جانے والے اپنے ساڑھے گیارہ ہزار فوجیوں کی یاد میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے ہر سال ٢٥ اپریل کوAnzac Day یعنی یومِ آسٹریلیا نیوزی لینڈ آرمی کور کے طور پر منانا اور بہانے بہانے سے ترکوں کو مطعون کرنا شروع کردیا اور آج تک ہر سال یہ دن منایا جاتا ہے۔ اِس کے باوجود کہ اِتحادی گیلی پولی پر جارح کے صورت میں آئے تھے اور اِس جنگ میں اِتحادیوں کو واضح شکست بھی ہوئی تھی لیکن اِتحادیوں کی اِس جارحیت کے ایک سو سال پورے ہونے پر وہ تمام ممالک جو اِتحادی فوج میں شامل تھے، اُنہوں نے ٢٥ اپریل کو'' یوم اِنزاک'' منایا اور جنگ گیلی پولی میں مارے جانیوالے اپنے فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ١ اِنسانیت کے اِحترام کے حوالہ سے تدفین جیسے اِقدامات درست ہیں مگر حالت ِ کفر پر مرنے والے کے لیے سکون و راحت نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ذلت اور درد ناک عذاب ہے،وہ ہمارے بیٹے نہیں بلکہ اللہ اور رسول کے باغی اور دُشمن ہیں۔محمود میاں غفرلہ