ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2015 |
اكستان |
|
کا خطاب پایا۔ اُس جنگ کا ماسٹر مائنڈبرطانوی کابینہ میں شامل سر ونسٹن چرچل نے اُس جنگ کے لیے فوجی اکٹھے کرنے کے لیے تاجِ برطانیہ میں شامل آسٹریلیا، اَفریقہ اور برصغیر کادورہ کیا۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسی مسیحی نوآبادیوں میں چرچل نے اِس جنگ کو مذہبی رنگ دیا اور سلطنت ِعثمانیہ کے خاتمے پر پوری دُنیا پر صلیب کی حکمرانی کا خواب دِکھایا تھا جس پر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے ساٹھ ہزار سے زائد مسیحی رضا کارسلطنت ِعثمانیہ سے جنگ کرنے گیلی پولی کے محاذ پر آن پہنچے لیکن اُن میں سے نصف سے بھی بہت کم واپس گھروں کو لوٹ سکے۔ پہلی جنگ ِعظیم کے اِختتام پر سلطنت ِعثمانیہ کا تو خاتمہ ہوگیا لیکن دُنیا پر صلیب کی حکمرانی کا خواب پورا نہ ہوسکا اَلبتہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں گھر گھر صف ِماتم ضرور بچھ گئی،پہلی جنگ عظیم میں اِتحادیوں کی جانب سے دس لاکھ ہندوستانی فوجیوں نے بھی مختلف محاذوں پر لڑائیوں میں حصہ لیاجن میںچوہتر ہزار ایک سو ستاسی ہندوستانی فوجی مختلف محاذوںپر جان سے گئے اور سڑسٹھ ہزار ہندوستانی فوجی زخمی بھی ہوئے۔ معرکہ گیلی پولی دُنیا کے اُن چند معرکوں میں سے ایک ہے جسے جیتنے اور ہارنے والے دونوں حریف اپنے لیے باعث ِفخر سمجھتے رہے ہیںلیکن اِس کا کریڈٹ بجا طور پر مصطفی کمال پاشا کو جاتا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد گیلی پولی میں مارے جانے والوں کی لاشوں اور باقیات کو رنگ و نسل کے اِمتیاز اور مذہب و عقیدے کی تفریق کے بغیر باقاعدہ قبرستانوں میں دفن کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج اِس اہم ترین اور فیصلہ کن جنگ میں جان سے جانے والوں کے چالیس سے زیادہ قبرستان پورے گیلی پولی میں بکھرے نظر آتے ہیں ، گیلی پولی میں جابجا جنگی یادگاریں بھی موجود ہیں، اُن جنگی قبرستانوں اور یادگاروں کے باہر فاتح گیلی پولی مصطفی کمال پاشا