ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2015 |
¾اكستان Ù |
|
سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں ، ایک اللہ والے نے علما ء اور عوام کے درمیان ربط وتعلق کی اہمیت واِفادیت کو اُجاگر کرتے ہوئے یوں فرمایا : ''علما ء کا عوام کے ساتھ ربط قائم رہا تو یہ اُمت چلنے والی ہوگی اور علماء اُس کو چلانے والے ہوں گے اوراگر چلنے والے نہ ہوں تو علم کا یہ چراغ ختم ہوجائے اور اُس کی روشنی سے کسی کو فائدہ نہ ہوگا ۔'' حضرت مولانا اَبو الحسن ندوی بے دینی ، جہالت ، مذہب بیزاری ، آخرت فراموشی کی اِس عمومی فضائ، علماء اور دُعاة کی ذمہ داریوں اور اُن کیلیے طریقہ کار اور میدانِ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں : '' اہلِ نظر جانتے ہیں کہ اِس وقت لا دینی تحریکات کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ وہ عوام سے براہِ راست ربط پیداکرتی ہیں ، عوام کی اپنے اُصول پر تربیت کرتی ہیں، اُن کے داعی عملی لوگ ہیں، سرگرم ومتحرک ہیں ،اِیثار وقربانی کی رُوح رکھتے ہیں، اپنے مقاصد کی خاطر ہر قسم کی مشقتیں برداشت کرتے ہیں ، اُن کے پاس عوام کو مشغول رکھنے کے لیے کام ہے ۔ یہ تمام پہلو اِس وقت کی مضطرب وبے چین طبیعتوں کے لیے مقناطیس کی سی کشش رکھتے ہیں ، اِن لا دینی تحریکات کا مقابلہ کرنے کے لیے نہ محض نظری فلسفے موزں ہیں ، نہ کاغذی خاکے ، نہ محض دلائل وبراہین اور نہ محض دعوتیں جو خواص کے دائرہ میں محدود ہیں اور عوام کو خطاب کر کے اور اُن کو کام پر لگانے کے لیے اُن کے پاس کچھ بھی نہیں ہے ، یہ لادینی یاکم سے کم مادّی تحریکیں تمام دُنیا میں آگ کی طرح پھیل رہی ہیں اور اُن کی سرنگیں تمام دُنیا میں پھیلی ہوئی ہیں، اِن تحریکات کا مقابلہ صرف وہ دینی تحریک کر سکتی ہے جو عوام سے ربط وتعلق پیدا کرنا ضروری سمجھتی ہو ، اُس کے کارکن کسی طبقہ کو نظر اَنداز نہ کریں، وہ غریب کاکوئی جھونپڑا ، کسان کا کوئی کھلیان نہ چھوڑیں ، کارگاہوں میں جائیں ، بیٹھکوں اور چوپایوں میں بھی اپنا خطاب کریں ، اُن میں سرگرمی ، جفاکشی