ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2015 |
¾اكستان Ù |
|
منصب ِنبوی کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ عوام کی بے راہ روی ،بد چلنی اور گمراہی علما ء کو بے چین اور بے کل کردے اور وہ اُس وقت تک چین وسکون کی سانس نہ لیں جب تک کہ اُمت کے بچائو کی ممکنہ تدابیر نہ اِختیار کریں، علما ء اور عوام کی مثال ایسی ہی ہے جیسے نبی اور اُمت کی مثال ہو تی ہے چنانچہ آپ ۖ نے لوگوں کی گمراہی اور غلط روی پر اِصرار اور اُن کو غلط راہ سے بچانے اور بھیانک اَنجام سے نجات دِلانے میں اپنی اَنتھک کوشش اور جد وجہد کی مثال یوں بیان فرمائی ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ ۖنے اِرشاد فرمایا کہ ''میری اور تمہاری مثال اُس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی تو پتنگے اور پروانے اُس میں گرنے لگے اور وہ اُن کو آگ سے ہٹانے لگا، میں بھی تمہاری کمروں کو پکڑکر تمہیں جہنم کی آگ سے بچارہاہوں لیکن تم لوگ میرے ہاتھوں سے نکلے جارہے ہو یعنی جہنم کی آگ میں گرتے جارہے ہو۔'' (مسلم شریف باب شفق النبی ۖ رقم الحدیث : ٢٢٨٥) علما جو کہ منصب ِنبوت کے حامل ہیں، وہ بھی عوام کی گمراہی،دین سے دُوری، اِسلامی تعلیمات سے بیزاری پر ایسے ہی فکر مند ہوں اور اُن کو تباہی وبربادی کی راہ سے بچانے کی ایسی ہی دُھن سوار ہو جیسے کوئی اَند ھا شخص ہماری نگا ہوں کے سامنے گڑھے میں گررہا ہو تو ہر شخص جس میں اِنسانیت کا کچھ بھی مادّہ ہے وہ دوڑکر اُسے بچانے اور ہلاکت سے نجات دِلانے کے لیے کوشاں ہوتاہے۔ موجودہ دور کا سب سے بڑا اَلمیہ یہ ہے کہ علماء اور عوام کے درمیان بیگانگی ایک دُوسرے سے دُوری اور وحشت وتنفر پیدا ہوگیا ہے، جو دراصل اِس اُمت کی سب سے بڑی بدقسمتی اور اِسلام کے مسقبل کے لیے بڑا خطرہ اور اِلحاد وبے دینی کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے ، موجودہ دور کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ عوام اور علماء کے طبقے کے درمیان غلط فہمی کی بنیاد پرجوبُعد اور بیگانگی ، ایک دُوسرے سے وحشت وتنفر پیدا ہوگیا ہے وہ دُور ہو، پھر اُن میں دوبارہ ربط وتعلق پیدا ہو اور وہ اِسلام کے لیے تعاون واِشتراکِ عمل سے کام کریں ، ایک دُوسرے کی تعظیم اور قدر کو جانیں اور ایک دُوسرے کے محاسن