ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2015 |
¾اكستان Ù |
|
اور سخت جانی محنت کشی، لا دینی دعوت وتحریک کے پُرجوش کارکنوں سے کم نہ ہو اور خیرخواہی ودِلجوئی اور سوزی ودردمندی اُن میں اِن سے کہیں زائد ہو، اِس لیے کہ وہ صرف اُن کی معاشی حالت بلند کرنا چاہتے ہیں اوراُن کوصرف اِن کی ظاہری پست حالی کا درد ہے لیکن اِس دینی دعوت کے کارکنوں کا کام اُس سے کہیں زیادہ بلند ہے ، اُن کی خدافراموشی ، بہیمانہ زندگی کا درد ہے جس میں اللہ کی یہ مخلوق پڑی ہوئی ہے اور یہ اُن کی دینی، اَخلاقی ، رُوحانی اور ذہنی سطح بلند کرنا چاہتے ہیں ، مقاصد کے اِسی فرق وتفاوت کے ساتھ جدوجہد ، دِلسوزی ، سرگرمی میں زیادتی درکار ہے۔'' (دینی دعوت : ٣٢٥۔٣٢٦ ) حضرت مولانا کی اِس چشم کشا تحریر کی روشنی میں علماء اور عوام کے درمیان ربط وتعلق کی اہمیت، اِس بے دینی کے ماحول میں تغیر وتبدیلی لانے اور اِسے اِسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ فضا ء میں بدلنے، غیرمذہبی تحریکات کے مقابلے میں ہماری کوشش اور مساعی کے بالکل حقیر ، معمولی اور ناتمام ہونے کا اِحساس اپنی محنت ، جدوجہد ، دعوت واِصلاح کی راہ میں اپنی قربانی کی مقدار کو بڑھانے کا شعور پیدا ہوتا ہے ۔ اِس وقت لا دینی تحریکات جس سرعت وقوت کے ساتھ اُفق ِعالم پر پھیل رہی ہیں اور جو وسعت اِختیار کر رہی ہیں ، اِس بے دینی کے سیلابِ بلا خیز پر اگر کوئی بند لگاسکتے ہیں اور اُس کے خطرناک اور بھیانک اَثرات کو روک سکتے ہیں تو وہ علماء ِ دین ہیں لیکن اِس کے لیے اُنہیں عمومی دعوت ، عمومی تعلیم وتربیت اور عمومی نقل وحرکت اور جدوجہد کی راہ کو اَپنانا ہوگا اور عوام سے گھل مِل کر حتی الامکان اُن کے مسائل سے واقفیت اور اُن کے حل کی حتی المقدور کوشش اور اُن کی ضروریات کی تکمیل کے اِمکانات پیدا کرنا ، اُن کے درمیان رہ کر اُن سے براہِ راست ربط وتعلق قائم کر کے اُن کو بیرونی خطرات سے محفوظ کرنا ہوگا ، اللہ عزوجل توفیق ِاَرزانی عطا فرمائے ۔ وقتِ فرصت کہاں ، کام ابھی باقی ہے نورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے