ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2015 |
¾اكستان Ù |
|
سے بے خبر، حیوانیت ونفسانیت کے ہا تھوں مجبور ہو کراُن کا اِسے گلے لگا لینا، یہ تمام اُمور بھی اُن کی اِس تبلیغی مہم کا حصہ ہو تے ہیں۔اِس وقت خصوصًادیہاتوں کی یہ صورتِ حال ہے آبادی کی آبادی، بستی کی بستی، عیسائیت کے دامِ مکرمیں آکر اِیمان واِسلام سے ہاتھ دھورہی ہے، چرچ کی حاضری اور عیسائیت کے قبول کرنے پر مختلف پر کشش اسکیموں سے اِستفادہ اور زندگی کی اہم ضروریات جن میں مکان، دُکان، کاروبار و طبی اِمداد کی فرا،ہمی اِن جیسے دیگر جاذبِ نظربیش قیمت اورپُرتحیر وعدوں کو دیکھ کر لوگ دھوکے سے عیسائیت قبول کر رہے ہیں ۔ زیادہ دُور جانے کی ضرورت نہیں، اپنے پاس پڑوس کے ماحول پر نگاہ ڈالیے، ساری جدوجہد دن رات کی تگ و دو اور زندگی کی محنت کا خلاصہ یہ ہو گیا ہے کہ ایک بالشت پیٹ اور اُس کی خواہشات کی تکمیل ہو جائے، خواہ اُس کے لیے اِسلامی اور اِنسانی حدود کو کیوں نہ پھلانگنا پڑے، اَوا مرِخداوندی اور اِرشاداتِ ربانی کی خلاف ورزی کیوں نہ ہو، خدا کی ناراضگی اور خفگی کو دعوت کیوں نہ دی جائے، اِس کے لیے خواہ نماز، روزہ اور زکوة جیسے اہم اور بنیادی شرعی اُمور کیوں نہ چھوٹ جائیں لیکن مادّہ اور معدہ کی پرستش ضرور ہو، کسی خواہش کا گلا نہ گُھٹے۔ اِن بھیانک اور پُر خطراَحوال میں علماء اور عوام کے درمیان ربط وتعلق کی اہمیت کافی بڑھ جاتی ہے چونکہ علما ء اَنبیاء کے وارث اور اَمین ہو تے ہیں، نبی کے بعد نبوت کے کازاور اُمت کی اِصلاح کی ذمہ داری اِن پر آن پڑتی ہے اِس لیے بے دینی اور لامذہبی کے اِس دور میں عوام سے گھل مِل کر اُن میں اِیمان واَعمال کی اہمیت اور قدر کا اِحسا س دِلانا، اَحکامِ خداوندی سے اِعراض اوررُوگردانی والی زندگی کے نتائج ِبد سے آگا ہ کرنا، اِس زندگی کی حقارت اور آخرت کی اَ بدا لآباد اور لامتناہی زندگی اور وہاں کے حقیقی آرام وراحت کو بتلاکر اُنہیں اِسلامی واِیمانی زندگی کا خوگر اور عادی بنانا،یہ علماء کی ذمہ داری ہے،اگر اِس راہ میں کچھ سننا پڑے تو اُس پر صبر وتحمل سے کام لینا اور اُس پر ثواب کا اُمید وار ہونا، اگر اِس دوران لوگوں سے خوشامدی، منت وسماجت اور اُن کے سامنے عاجزی کے اِظہار کے مراحل سے گزر نا پڑے تو اُس سے گریز نہ کرنا، یہ تمام چیزیں منصب ِنبوت میں شامل ہیں۔