ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2015 |
اكستان |
|
عظمت ِرفتہ کے نقوش دوبارہ بحال کرسکتے ہیں اور اپنے اَکابر واَسلاف کی یادوں اور عہد ِماضی کے مظاہرواَثرات کو دوبارہ زِندہ وتابندہ کرسکتے ہیں، کر سی واِقتدار کی زِمام اپنے ہاتھ میں لیکر اِن ظاہر پرست، محسوسات ومشاہدات کے خوگر دولت ِیقین سے محروم، نفسانیت کے پجاریوں اور خواہشات کے اَسیروں پر لگام کس سکتے ہیں جس کی واضح مثالیں حیاتِ صحابہ اور بعد کے دورمیں اَکابرین ِاُمت کی زندگی میں نمایاں نظرآتی ہیں ۔ عیسائی مشنریز اور قادیانیت کی جدوجہد ،دیہاتوں اورمسلم بستیوں میں اُن کی تبلیغی وتبشیری سرگرمیوں کا مقصد یہ ہے کہ سادہ لوح مسلم عوام کو اُن کی غربت وبے روزگاری ،مفلسی وبدحالی، زندگی میں درپیش دیگر مسائل اور کمزور یوں کا سہارا لے کر اُن کے مسائل کے حل اور ضروریات کی تکمیل کے نام پر اُن کے اِیمان کی یہ مایہ اُن سے چھین لی جائے اور اُنہیں یقین کی اُس چاشنی اور دولت سے محروم کیا جائے جو قرآن کے اِرشاد کے مطابق اُن کی سربلندی وسرفرازی کی اصل ضامن ہے ۔ بعض ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ یہ یورپین اِسلامی طرزہیئت ،بودوباش ،لباس وخراش اور حقیقی اِیمانی واِسلامی زندگی ،رُوئے زمین پر اُس کے نفوذواَثرات اور غلبہ واِقتدار سے اِس قدر خائف ہیں کہ مسلمانوں میں عیسائیت کی تبلیغ، اُس کی تحریف شدہ اصل شکل وصورت سے بگڑی ہوئی خود ساختہ نفسانیت وحیوانیت ،عریانیت وفحاشیت کی طرف دعوت دینے والی تعلیمات کو عام کرنے اور ساری دُنیا کو اُس کے نتائج ِبد اور بھیانک اَنجام سے دو چار کرنے کے لیے اپنی تنخواہ کا معمولی فیصد مختص کرتے ہیں بلکہ ہر گورنمنٹ ملازم کی تنخواہ سے قانونی اور دستوری طور پر اُس معینہ رقم کی کٹوتی ہوتی ہے، اگر چہ یہ رقم اِنفرادی طور پر بالکل حقیر ہو تی ہے لیکن اِس رقم کی مجموعی مقدار اِس قدر زیادہ ہو جاتی ہے کہ وہ اُس کے بل بوتے عیسائیت کے پرچار اور اپنے مذہب کے دائرہ کو وسیع اور کشادہ کرنے کا کام بہ آسانی اَنجام دے سکتے ہیں، مخربِ اَخلاق، عریاں تصاویر، برہنہ فوٹوزپر مشتمل اَخبارات ومیگزین کی اِشاعت اور اُس کے ذریعے لوگوں کی ذہنیت کو مغربی تہذیب وثقافت کے رنگ میں رنگ دینا، اُس کی کشش وجاذبیت اور اُس کی سحراَنگیزی کا اُنہیں خوگر اور عادی بناکر وقتی لذ ت میں اُنہیں مبتلا کر کے اَنجام کار