ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2015 |
اكستان |
|
ہماری عظیم الشان قومیت کا اَب یہ فیصلہ نہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے کالجوں سے بہت سستے داموں کے غلام پیدا کرتے رہیں بلکہ ہمارے کالج نمونہ ہونے چاہئیں بغداد اور قرطبہ کی یونیور سٹیوں کے اور اُن عظیم الشان مدارس کے جنہوں نے یورپ کو اپنا شاگرد بنایااِس سے پیشتر کہ ہم اُس کو اپنا اُستاد بناتے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ بغداد میں جب مدرسہ نظامیہ کی بنیاد اِسلامی حکومت کے ہاتھوں سے رکھی گئی تو اُس دِن علماء نے جمع ہو کر علم کا ماتم کیا کہ اَفسوس آج سے علم حکومت کے عہدے اور منصب حاصل کرنے کے لیے پڑھا جائے گاتو کیا آپ ایک ایسے کالج سے فلاحِ قومی کی اُمید رکھتے ہیں جس کی اِمداد اور نظام میں بڑا قوی ہاتھ ایک غیر اِسلامی حکومت کا ہو ؟ ہماری قوم کے سربر آوردہ لیڈروں نے سچ تو یہ ہے کہ اُمت ِ مسلمہ کی ایک بڑی اہم ضرورت کا اِحساس کیا۔ بلا شبہ مسلمانوں کی دَرس گاہوں میں جہاں علومِ عصریہ کی اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہو، اگر طلبہ اپنے مذہب کے اصول و فروع سے بے خبر ہوں اور اپنے قومی محسوسات اور اِسلامی فرائض فراموش کردیں اور اِن میں اپنی ملت اور اپنے ہم قوموں کی حمیت نہایت اَدنیٰ درجے پر رہ جائے تویوں سمجھو کہ وہ دَرسگاہ مسلمانوں کی قوت کو ضعیف بنانے کا ایک آلہ ہے۔ اِس لیے اعلان کیاگیا ہے کہ ایسی ''آزاد یونیورسٹی'' کااِفتتاح کیا جائے گا جو گورنمنٹ کی اِعانت اور اُس کے اَثر سے بالکل علیحدہ ہو اور جس کا تمام تر نظامِ عمل اِسلامی خصائل اور قومی محسوسات پر مبنی ہو۔ مجھے لیڈروں سے زیادہ اُن ''نو نہالانِ وطن'' کی ہمت ِبلند پر آفرین اور شاباش کہنا چاہیے جنہوں نے اِس نیک مقصد کی اَنجام دہی کے لیے اپنی ہزاروں اُمیدوں پر