ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2015 |
اكستان |
|
آپ میں سے جو حضرات محقق اور باخبر ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ میرے اَکابر سلف نے کسی وقت بھی کسی اَجنبی زبان کے سیکھنے یا دُوسری قوموں کے علوم و فنون حاصل کرنے پر کفر کا فتوی نہیں دیا۔ ہاں ! یہ بے شک کہا گیا ہے کہ اَنگریزی تعلیم کاآخری اَثر یہی ہے جو عمومًا دیکھا گیا ہے کہ لوگ نصرانیت کے رنگ میں رنگے جائیں یا ملحدانہ گستاخیوں سے اپنے مذہب اور مذہب والوں کا مذاق اُڑائیں یا حکومت ِوقت کی پرستش کرنے لگیں توایسی تعلیم پانے سے ایک مسلمان کے لیے جاہل رہنا ہی اچھا ہے۔ اَب اَز راہِ نوازش آپ ہی اِنصاف کیجیے کہ یہ تعلیم سے روکنا تھا یا اُس کے اَثرِ بد سے ؟ اور کیا یہ وہی بات نہیں جس کو آج مسٹر گاندھی اِس طرح اَدا کر رہے ہیں کہ : ''اِن کالجوں کی اعلیٰ تعلیم بہت اچھے اور صاف اور شفاف دُودھ کی طرح ہے جس میں تھوڑا سا زہر مِلا دیا گیا ہو۔'' بارے خدا کا شکر ہے کہ اُس نے میری قوم کے نوجوانوں کو توفیق دی کہ وہ اپنے نفع و ضرر کا موازنہ کریں اور دُودھ میں جو زہر مِلا ہوا ہے اُس کو کسی بھپکے کے ذریعے سے علیحدہ کر لیں۔ آج ہم وہی بھپکا نصب کر نے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں اور آپ نے مجھ سے پہلے سمجھ لیا ہوگا کہ وہ بھپکا ''مسلم نیشنل یونیورسٹی'' ہے۔ مطلق تعلیم کے فضائل بیان کرنے کی ضرورت اَب میری قوم کو نہیں رہی کیونکہ زمانہ نے خوب بتلایا دیا ہے کہ تعلیم سے ہی بلند خیالی ،تدبر اور ہوشمندی کے پودے نشو ونما پاتے ہیں اور اِسی کی روشنی میں آدمی نجاح و فلاح کے راستہ پر چل سکتا ہے۔ ہاں ضرورت اِس کی ہے کہ وہ تعلیم مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہو او ر اَغیار کے اَثر سے کلیةً آزاد ہو۔ کیا باعتبارِ عقائد و خیالات کے اور کیا باعتبار اَخلاق و اَعمال کے اور کیا باعتباراَو ضاع و اَطوار کے ہم غیروں کے اَثرات سے پاک ہوں ۔