ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2015 |
اكستان |
|
کیوں تھوڑی مدت ہم کو اور مہلت نہ دی ؟ کہہ دو کہ دُنیا کا فائدہ تھوڑا سا ہے اورآخرت اُس شخص کے لیے بہتر ہے جس نے تقویٰ اِختیار کیا اور تم پر ایک تاگے کے برا بر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا، جہاں کہیں بھی ہو موت تم کو آ دبائے گی اگرچہ تم نہایت مستحکم قلعے میں ہو۔ '' اے نونہالانِ وطن ! جب میں نے دیکھا کہ میرے اِس دَرد کے غم خوار (جس سے میری ہڈیاں پگھلی جا رہی ہیں) مدرسوں اور خانقاہوں میں کم اور اسکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں تو میں نے اور میرے چند مخلص اَحباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا اور اِس طرح ہم نے ہندوستان کے دو تاریخی مقاموں (دیوبند اور علی گڑھ) کا رِشتہ جوڑا۔ کچھ بعید نہیں کہ بہت سے نیک نیت بزرگ میرے اِس سفر پرنکتہ چینی کریں اور مجھ کو اپنے مرحوم بزرگوں کے مسلک سے منحرف بتلائیں لیکن اہلِ نظر سمجھتے ہیں کہ جس قدر میں بظاہر علی گڑھ کی طرف آیا ہوں اِس سے کہیں زیادہ علی گڑھ میری طرف آیا ہے۔ دوش دیدم کہ ملائکہ دَر میخانہ زدند گلِ آدم بسر شتند بہ پیمانہ زدند ساکنانِ حرم سرِّ عفاف ملکوت بامن راہ نشین بادوۂ مستانہ زدند شکرِ اِیزد کہ میان من و اُو صلح فتاد حوریاں رقص کناں ساغر شکرانہ زدند جنگ ہفتاد و دو ملت ہمہ راغذر بنہ چوں ندیدند حقیقت رہِ اَفسانہ زدند