طلاقہ]١٩٠١[(١٧) ولا یقع طلاق مولاہ علی امرأتہ ]١٩٠٢[(١٨) والطلاق علی ضربین صریح و کنایة فالصریح قولہ انت طالق ومطلقة وطلقتک فھذا یقع بہ الطلاق
وجہ حدیث میں اس کی تفصیل ہے۔عن ابن عباس قال اتی النبی ۖ رجل فقال یا رسول اللہ ! ان سیدی زوجنی امتہ وہو یرید ان یفرق بینی وبینھا ،قال فصعد رسولۖ اللہ المنبر فقال یا ایھا الناس ما بال احدکم یزوج عبدہ امتہ ثم یرید ان یفرق بینھما ؟ انما الطلاق لمن اخذ بالساق (الف) (ابن ماجہ شریف ، باب طلاق العبد ص ٢٩٩ نمبر ٢٠٨١ دار قطنی ، کتاب الطلاق ج رابع ص ٢٤ نمبر ٣٩٤٦) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس نے شادی کی اسی کو طلاق دینے کا حق ہے (٢) اثر میں ہے۔ان ابن عمر کان یقول من اذن لعبدہ ان ینکح فالطلاق بید العبد،لیس بید غیرہ من طلاقہ شیء (ب) (سنن للبیہقی ، باب طلاق العبد بغیر اذن سیدہ ج سابع ،ص٥٩٠، نمبر ١٥١١٤) اس اثر سے بھی معلوم ہوا کہ طلاق کا اختیار غلام کو ہے مولی کو نہیں۔
]١٩٠١[(١٧)اور نہیں واقع ہوگی آقا کی طلاق غلام کی بیوی پر۔
تشریح آقا کی اجازت سے غلام کی شادی تو ہوئی لیکن اب طلاق دینے کا مجاز آقا نہیں رہا غلام خود ہوگا۔
وجہ گزر گئی۔
( طلاق صریح اور طلاق کنایہ کا بیان )
]١٩٠٢[(١٨) طلاق دو قسموں پر ہے صریح اور کنایہ،پس صریح جیسے یوں کہے تجھے طلاق ہے،تم طلاق دی ہوئی ہے ،میں نے تمہیں طلاق دیدی،پس اس سے طلاق رجعی واقع ہوگی۔
تشریح طلاق دینے کے دو طریقے ہیں۔ایک صریح کہ جس سے صاف معلوم ہو کہ شوہر طلاق دینا چاہتا ہے۔اور دوسرا طریقہ کنایہ کا ہے۔کنایہ کی شکل یہ ہوتی ہے کہ شوہر ایسے الفاظ استعمال کرے جن کے دومعنی ہوں ۔ایک معنی کے اعتبار سے طلاق نہ ہوتی ہو اور دوسرے معنی کے اعتبار سے طلاق واقع ہو جاتی ہو۔اس شکل میں طلاق کی نیت کرے گا،یا حالت ایسی ہو جس سے طلاق واقع ہونے کا تقاضا ہو تو اس سے طلاق واقع ہوگی۔اوپر کے تینوں الفاظ صریح ہیں۔ کیونکہ ان سے طلاق کا صاف پتہ چلتا ہے۔اور قرآن میں بھی طلاق کے لئے یہی لفظ استعمال ہوا ہے۔
وجہ الطلاق مرتان فامسک بمعروف او تسریح باحسان (ج) (آیت ٢٢٨ سورة البقرة ٢) اس آیت سے ایک بات تو یہ معلوم
حاشیہ : (الف)حضورۖ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے آقا نے میری باندی سے میری شادی کرائی ۔اور وہ چاہتا ہے کہ میرے درمیان اور اس کے درمیان تفریق کرادے۔فرماتے ہیں کہ حضورۖ منبر پر چڑھے اور کہا اے لوگو ! تم لوگوں کو کیا ہوا کہ اپنے غلام کو اپنی باندی سے شادی کراتے ہو پھر چاہتے ہو کہ دونوں کے درمیان تفریق کرادے۔ طلاق کاحق اس کو ہے جس نے پنڈلی پکڑی یعنی شادی کی (ب) حضرت ابن عمر نے فرمایا جس نے اپنے غلام کو نکاح کی اجازت دی تو طلاق غلام کے ہاتھ میں ہے۔دوسرے کے ہاتھ میں طلاق میں سے کچھ نہیں ہے(ج) طلاق دو مرتبہ ہے۔پس اچھے انداز سے روک لینا ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔