الرجعی]١٩٠٣[(١٩) ولا یقع بہ الا واحدة وان نوی اکثر من ذلک]١٩٠٤[(٢٠) ولا یفتقر بھذہ الالفاظ الی نیة]١٩٠٥[(٢١) وقولہ انت الطلاق وانت طالق الطلاقَ وانت
ہوئی کہ طلقت ، طالق اور مطلقة صریح ہیں۔اس لئے کہ قرآن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔دوسری بات معلوم ہوئی کہ اس لفظ کے استعمال کرنے کے بعد رجعت کر سکتا ہے۔کیونکہ قرآن نے کہا کہ اس کے بعد بیوی کو رکھ بھی سکتا ہے۔اور احسان کے ساتھ چھوڑ بھی سکتا ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ رجعت کر سکتا ہے (٢) حضرت عبد اللہ بن عمر نے ظلاق صریح دی تو ایک طلاق رجعی واقع ہوئی۔سمعت ابن عمر قال طلق ابن عمر امرأتہ وھی حائض فذکر عمر للنبی فقال لیراجعھا قلت تحتسب ؟قال فمہ؟ (الف) (بخاری شریف ، باب اذا طلقت الحائض تعتد بذلک الطلاق ص ٧٩٠ نمبر ٥٢٥٢ مسلم شریف ، باب تحریم طلاق الحائض بغیر رضاھا ص ٤٧٥ نمبر ٣٦٥٨١٤٧١ ترمذی شریف ،نمبر١١٧٥ ابو داؤد شریف ،نمبر ٢١٨٤)اور اگلی روایت میں ہے عن ابن عمر قال حسبت علی بتطلیقة (بخاری شریف ، باب اذا ظلقت الحائض تعتد بذلک الطلاق ص ٧٩٠ نمبر ٥٢٥٣ مسلم شریف ،نمبر ١٤٧١) ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ صریح الفاظ سے طلاق رجعی واقع ہو گی اور ایک طلاق واقع ہوگی۔
]١٩٠٣[(١٩)اور نہیں واقع ہوگی مگر ایک اگرچہ نیت کی ہو اس سے زیادہ کی۔
تشریح ان الفاظ سے ایک ہی طلاق واقع ہوگی اگرچہ زیادہ کی نیت کی ہو۔
وجہ نیت کا اعتبار کنایہ الفاظ میں ہوتا ہے صریح الفاظ میں نیت کا اعتبار نہیں ہے (٢) اثر میں ہے۔عن الشعبی قال النیة فیما خفی فاما فیما ظھر فلا نیة فیہ (ب) ( مصنف ابن ابی شیبة٩٦ ماقالوا فی رجل یطلق امرأتہ واحدة ینوی ثلاثا ج رابع، ص١١٥، نمبر ١٨٣٦١ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ صریح الفاظ میں نیت کا اعتبار نہیں ہے (٣) عن الحسن فی رجل طلق امرأتہ واحدة ینوی ثلاثا قال ھی واحدة (ج)(مصنف ابن ابی شیبة ٩٥ ماقالوا فی رجل یطلق امرأتہ واحدة ینوی ثلاثا ج رابع ،ص ١١٥، نمبر١٨٣٦٢) اس اثر سے معلوم ہوا کہ صریح الفاظ میں تین کی نیت کرے تب بھی تین واقع نہیں ہوگی ایک ہی واقع ہوگی۔
]١٩٠٤[(٢٠)یہ الفاظ نہیں محتاج ہیں نیت کے۔
تشریح صریح الفاظ میں طلاق دینے کے لئے نیت کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ طلاق دیتے ہی بغیر نیت کے طلاق واقع ہو جائے گی۔
]١٩٠٥[(٢١)اور شوہر کا قول انت الطلاق ، انت طلاق الطلاق اور انت طالق طلاقا میں اگر اس کی کوئی نیت نہیں ہے تو ایک رجعی طلاق،اور دو کی نیت کی تو نہیں واقع ہوگی مگر ایک۔اور اگر نیت کی اس سے تین کی تو تین ہوگی۔
تشریح طلاق اسم فاعل کے صیغے مثلا انت طالق سے واقع ہوتی ہے۔اور چونکہ لفظ صریح ہے اس لئے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔لیکن
حاشیہ : (الف)ابن عمر نے حیض کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دی ۔پس حضرت عمر نے اس کا تذکرہ حضورۖ کے سامنے کیا تو آپۖ نے فرمایا اس کو رجعت کر لینا چاہئے۔میں نے کہا کہ کیا طلاق ہو جائے گی۔آپ ۖنے فرمایا تو پھر کیا ہوگا ؟(ب) حضرت شعبی نے فرمایا نیت اس چیز میں ہے جو پوشیدہ ہو ۔بہر حال جو ظاہر ہو تو اس میں نیت نہیں ہے(ج)حضرت حسن نے فرمایا جو آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے اور تین کی نیت کرے۔فرمایا وہ ایک ہی ہے۔