Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 3 - یونیکوڈ

98 - 448
ان یراجعھا فاذا طھرت وحاضت و طھرت فھو مخیر ان شاء طلقھا وان شاء امسکھا]١٨٩٨[(١٤) ویقع طلاق کل زوج اذا کان عاقلا بالغا]١٨٩٩[(١٥) ولا یقع طلاق الصبی والمجنون والنائم]١٩٠٠[(١٦) واذا تزوج العبد باذن مولاہ وطلق وقع 

بذلک الطلاق ص ٧٩٠ نمبر ٥٢٥٢ مسلم شریف ، باب تحریم طلاق الحائض بغیر رضاھا ص ٤٧٥ نمبر ٣٦٥٨١٤٧١ ترمذی شریف ،نمبر١١٧٥ ابو داؤد شریف ،نمبر ٢١٨٤) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حیض کی حالت میں دی ہوئی طلاق شمار کی جائے گی۔اور اگر رجعت نہیں کرے گا تو عدت گزار کر بائنہ ہو جائیگی۔
]١٨٩٨[١٤)واقع ہوگی طلاق ہر شوہر کی جوعاقل اور بالغ ہو۔  
وجہ  بغیرعقل اور بلوغ کے عقود اور فسوخ واقع نہیں ہوتے اور نہ شریعت اس کا اعتبار کرتی ہے (٢) حدیث اگلے نمبر میں ہے۔
]١٨٩٩[(١٥)اس لئے نہیں واقع ہوگی طلاق بچے کی اور مجنون کی اور سونے والے کی۔  
وجہ  (١) بچے اور مجنون میں عقل نہیں ہوتی اس لئے ان کی طلاق واقع نہیں ہوگی (٢) حدیث میں ہے کہ ان لوگوں کی طلاق واقع نہیں ہوگی۔عن علی عن النبی ۖ قال رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتی یستیقظ وعن الصبی حتی یحتلم وعن المجنون حتی یعقل (الف) (ابو داؤد شریف ، باب فی المجنون یسرق او یصیب حدا ص ٢٥٦ نمبر ٤٤٠٣ بخاری شریف ، باب الطلاق فی الاغلاق والکرہ والسکران والمجنون وامرھما ص ٧٩٣ نمبر ٥٢٦٩ نسائی شریف ،نمبر ٣٤٣٢) (٣) بخاری شریف میں قول صحابی ہے ۔وقال عثمان لیس لمجنون ولا لسکران طلاق ۔وقال ابن عباس طلاق السکران والمستکرہ لیس بجائز وقال عقبة بن عامر لا یجوز طلاق الموسوس (ب) (بخاری شریف، باب الطلاق فی الاغلاق والکرہ ص ٧٩٣ نمبر ٥٢٦٩)اس حدیث اور اثر سے معلوم ہوا کہ مجنون اور بچے کی طلاق واقع نہیں ہوگی(٤) آیت میں ہے۔ربنا لا تؤاخذنا ان نسینا او اخطأنا (آیت ٢٨٦ سورة البقرة ٢) اس آیت میں ہے کہ اگر میں بھول گیا یا غلطی کی تو نہ پکڑنا۔ جس سے معلوم ہوا کہ بھول اور غلطی سے کوئی کام ہو جائے تو اس کا اعتبار نہیں ہے۔اور بچے اور مجنون سے جو کام ہوتا ہے وہ بھول میں ہوتا ہے۔ اس لئے اس کی طلاق کا اعتبار نہیں ہوگا۔اور یہی حال سونے والے کا ہے۔ اثر میں ہے   عن ابن عباس قال لایجوز طلاق الصبی (مصنف ابن ابی شیبة ٣٢ ماقالوا فی الصبی ج رابع، ص ٧٦، نمبر ١٧٩٢٩)
]١٩٠٠[(١٦)اگر غلام نے مولی کی اجازت سے شادی کی اور طلاق دی تو اس کی طلاق واقع ہو گی۔  
تشریح  غلام نے آقا کی اجازت سے شادی کی تو شادی ہو گئی۔اور چونکہ غلام نے شادی کی تھی اس لئے اب مولی کو طلاق دینے کا اختیار نہیں ہوگا بلکہ غلام ہی کو طلاق دینے کا اختیار ہوگا۔  
 
حاشیہ  :  (پچھلے صفحہ سے آگے) طلاق شمار کی جائے گی؟ فرمایا تو کیا ہوگا ؟(الف) حضورۖ نے فرمایا تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔سونے والے سے یہاں تک کہ بیدار ہو جائے۔اور بچے سے یہاں تک کہ بالغ ہو جائے۔اور مجنون سے یہاں تک کہ سمجھدار ہو جائے(ب) حضرت عثمان نے فرمایا مجنون اور مست کے لئے طلاق نہیں ہے۔حضرت ابن عباس نے فرمایا نشہ اور زبردستی والے کی طلاق جائز نہیں ہے۔اور حضرت عقبہ نے فرمایا وسوسے والے کی طلاق جائز نہیں ۔

Flag Counter