Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 3 - یونیکوڈ

97 - 448
وابی یوسف رحمھما اللہ تعالی وقال محمد رحمہ اللہ لایطلقھا للسنہ الا واحدة]١٨٩٧[(١٣) واذا طلق الرجل امرأتہ فی حال الحیض وقع الطلاق ویستحب لہ 

نمبر ١٧٧٤٤ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ہر ماہ میں ایک طلاق دے۔
فائدہ  امام محمد فرماتے ہیں کہ حاملہ عورت کو سنت کے طور پر طلاق دینا ہو تو صرف ایک ہی طلاق دے کر چھوڑ دے۔وضع حمل کے بعد بائنہ ہو جائے گی اور عدت بھی گزر جائے گی۔  
وجہ  اس کی عدت وضع حمل کے بعد ایک ہی مرتبہ ختم ہوگی ۔اس لئے ایک ہی طلاق دے سکتا ہے(٢) طلاق دینا مبغوض ہے اس لئے زیادہ طلاق دینااچھا نہیں ہے۔اس لئے ایک ہی پر اکتفا کرے (٣) اثر میں ہے۔عن الحسن قال لاتزاد الحامل علی تطلیقة حتی تضع فاذا وضعت فقد بانت منہ (الف) (مصنف عبد الرزاق ، باب طلاق الحامل ج سادس ص ٣٠٤ نمبر ١٠٩٣٤ مصنف ابن ابی شیبة ٣ ماقالوا فی الحامل کیف تطلق؟ ج رابع، ص ٥٨، نمبر ١٧٧٤٠) 
]١٨٩٧[(١٣)اگر مرد اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دیدے تو طلاق واقع ہوگی۔اور مرد کے لئے مستحب ہے کہ اس سے رجعت کرلے۔پس جب پاک ہو جائے پھر حیض آئے پھر پاک ہو جائے تو اس کو اختیار ہے چاہے طلاق دے چاہے عورت کو روک لے۔  
وجہ  حیض کی حالت میں طلاق دے تو واقع ہو جائے گی۔البتہ ایسا کرنا بدعت اور مبغوض ہے۔اس لئے اس کو رجعت کر لینا چاہئے۔پھر پاک ہو پھر حیض آئے پھر پاک ہو تو اس وقت چاہے توطلاق دے اور چاہے تو بیوی کو روک لے (٢) حضرت عبد اللہ بن عمر نے حیض کی حالت میں طلاق دی تھی تو ان کو حضورۖ نے رجوع کرنے کے لئے کہا تھا۔حدیث یہ ہے  عن ابد اللہ بن عمر انہ طلق امرأتہ وھی حائض علی عہد رسول اللہ ۖ فسأل عمر بن الخطاب رسول اللہ عن ذلک فقال رسول اللہ ۖ مرہ فلیراجعھا ثم لیمسکھا حتی تطھر ثم تحیض ثم تطھر ثم ان شاء امسک بعد وان شاء طلق قبل ان یمس فتلک العدة التی امر اللہ ان یطلق لھا النساء (ب) (بخاری شریف، باب قول اللہ تعالی یا ایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن واحسوا العدة ،سورة الطلاق ٦٥ ص ٧٩٠ نمبر ٥٢٥١ مسلم شریف ، باب تحریم طلاق الحائض بغیررضاھا ص ٤٧٥ نمبر ١٤٧١) اس حدیث میں مسئلے کی پوری تفصیل موجود ہے۔اور حیض کی حالت میں طلاق واقع ہو جائے گی اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔سمعت ابن عمر قال طلق ابن عمر امرأتہ وھی حائض فذکر عمر للنبی ۖ فقال لیراجعھا قلت تحتسب ؟ قال فمہ ؟ (ج) (بخاری شریف ، باب اذا طلقت الحائض تعتد 

حاشیہ  :  (الف) حضرت حسن نے فرمایا حاملہ عورت کو ایک طلاق سے زیادہ نہ دے یہاں تک کہ جن دے۔پس جب جن دے تو اس سے بائنہ ہو جائے گی(ب) حضرت عبد اللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حضورۖ کے زمانے میں حیض ہونے کی حالت میں طلاق دی ۔پس حضرت عمر نے حضورۖ سے اس کے بارے میں پوچھا ۔پس حضورۖ نے فرمایا اس کو حکم دو کہ وہ رجعت کر لیں۔ پھر اس کو روک لیں یہاں تک کہ پاک ہو جائے۔پھر حیض آئے پھر پاک ہو جائے ۔پھر اگر چاہے تو روک لیں اس کے بعد اور اگر چاہے تو جماع سے پہلے طلاق دے دیں۔یہ عدت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے کہ اس وقت میں عورتوں کو طلاق دیں (ج)حضرت ابن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی ۔پس حضرت عمر نے حضورۖ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو آپۖ نے فرمایا اس کو رجعت کر لینا چاہئے۔میں نے پوچھا یہ(باقی اگلے صفحہ پر) 

Flag Counter