مضی شھر طلقھا اخری واذا مضی شھر طلقھا اخری]١٨٩٤[(١٠) ویجوز ان یطلقھا ولا یفصل بین وطیھا وطلاقھا بزمان ]١٨٩٥[(١١)وطلاق الحامل یجوز عقیب الجماع]١٨٩٦[(١٢) ویطلقھا للسنة ثلثا یفصل بین کل تطلیقتین بشھر عند ابی حنیفة
]١٨٩٤[(١٠)اور جائز ہے کہ اس کو طلاق دے۔اور وطی اور طلاق کے درمیان زمانے سے فصل نہ کرے۔
تشریح جس عورت کو حیض نہیں آتا ہے اس کو وطی کرے اور فورا طلاق دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔حیض والی عورت کی طرح نہیں ہے کہ وطی کرنے کے بعد حیض آئے،رحم صاف ہو پھر اگلے طہر آئے تب طلاق دے ۔
وجہ چونکہ حیض نہیں آتا ہے اس لئے حمل ٹھہرنے کا سوال نہیں ہے ۔کیونکہ جس کو حیض کا خون آتا ہو اسی کو حمل ٹھہرتا ہے۔اور حیض اور اگلے طہر کا انتظار اس لئے کرتے تھے کہ حیض کی وجہ سے رحم صاف ہو جائے اور یہاں حمل ٹھہرنے کا امکان نہیں ہے اس لئے جماع کے فورا بعد طلاق دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
]١٨٩٥[(١١) جائز ہے حاملہ عورت کو طلاق دینا جماع کے بعد۔
تشریح بیوی حاملہ ہے اس سے جماع کیا اور جماع کے فورا بعد طلاق دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔ ایک ماہ کے انتظار کی ضرورت نہیں ہے۔ وجہ حاملہ عورت سے جماع کے بعد دوسرا حمل ٹھہرنے کا امکان نہیں ہے۔کیونکہ رحم کا منہ بند ہے۔اس لئے فورا طلاق دے سکتا ہے (٢) اثر میں ہے۔عن الحسن و محمد قالا اذا کانت حاملا طلقھا متی شاء (الف) (مصنف ابن ابی شیبة ٣ ما قالوا فی الحامل کیف تطلق ج رابع ،ص ٥٨، نمبر ١٧٧٤٢ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ حاملہ عورت کو جماع کے فورا بعد طلاق دے سکتا ہے۔
]١٨٩٦[(١٢) حاملہ کو طلاق دے سنت کے مطابق تین اور فصل کرے ہر دو طلاقوں میں ایک مہینے کا شیخین کے نزدیک۔اور کہا امام محمد نے نہیں طلاق دے سنت کے طریقے پر مگر ایک۔
تشریح حاملہ عورت کو سنت کے طریقے پر طلاق دینا چاہے تو شیخین کے نزدیک تین طلاقیں دے سکتا ہے۔ البتہ آ ئسہ کی طرح ہر دو طلاقوں کے درمیان ایک مہینہ کا فصل کرے یعنی ایک طلاق کے بعد دوسری طلاق ایک ماہ کے بعد دے۔اور تیسری طلاق پھر ایک ماہ کے بعد دے،فورا نہ دے۔
وجہ اس کو حیض تو آتا نہیں ہے کہ حیض کا انتظار کرے۔اس لئے آئسہ کی طرح ایک ماہ ایک طہر کے مطابق ہوگا۔ اس لئے ایک ماہ کے بعد دوسری طلاق دے(٢) اثر میں ہے۔قلت للزھری اذا اراد ان یطلقھا حاملا ثلاثا کیف ؟ قال علی عدة اقرائھا (ب) (مصنف عبد الرزاق ، باب طلاق الحامل ج سادس ص ٣٠٤ نمبر ١٠٩٣٢ مصنف ابن ابی شیبة ٣ ماقالوا فی الحامل کیف تطلق ج رابع، ص ٥٨،
حاشیہ : (الف) حضرت حسن اور محمد بن سیرین نے فرمایا اگر عورت حاملہ ہو تو طلاق دے جب چاہے(ب) میں نے حضرت زہری سے پوچھا اگر عورت کو حمل کی حالت میں تین طلاقیں دینا چاہے تو کیسے کرے ؟ فرمایا حیض کی عدت کے مطابق۔