Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 3 - یونیکوڈ

95 - 448
الوقت تثبت فی حق المدخول بھا خاصة وھو ان یطلقھا واحدة فی طھر لم یجامعھا فیہ]١٨٩٢[ (٨)وغیر المدخول بھا ان یطلقھا فی حال الطھر والحیض]١٨٩٣[(٩) واذا کانت المرأة لا تحیض من صغر او کبر فاراد ان یطلقھا للسنة طلقھا واحدة فاذا 

حدیث گزر چکی ہے۔عن عبد اللہ بن عمر ... ثم تحیض ثم تطھر ثم ان شاء امسک بعد وان شاء طلق قبل ان یمس (الف) (بخاری شریف ، باب قول اللہ تعالی یا ایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن ص ٧٩٠ نمبر ٥٢٥١ مسلم شریف نمبر ١٤٧١) اس حدیث میں  قبل ان یمس  سے معلوم ہوا کہ اس طہر میں طلاق دے جس میں بیوی کو چھویا نہ ہو یعنی جماع نہ کیا ہو۔
]١٨٩٢[(٨)اور غیر مدخول بہا کو طلاق دے طہر کی حالت میں اور حیض کی حالت میں۔  
وجہ  چونکہ ابھی تک جماع نہیں کیا ہے اس لئے ہر وقت اس میں رغبت ہے ۔اس لئے حیض اور طہر دونوں حالتوں میں اس کو طلاق دے سکتا ہے (٢) جس کو عدت گزارنا ہو اس کے لئے طہر کا انتظار کیا جائے گا تاکہ عدت لمبی نہ ہو۔اور غیر مدخول بہا کو عدت نہیں گزارنی ہے اس لئے جب چاہے طلاق دیدے (٣) اثر میں اس کا ثبوت ہے۔    عن الثوری فی رجل طلق البکر حائضا قال لا بأس بہ لانہ لا عدة لھا (ب) (مصنف عبد الرزاق ، باب ھل یطلق الرجل البکر حائضا ج سادس، ص ٣١٢ نمبر ١٠٩٧٥) اس اثر سے معلوم ہوا کہ غیر مدخول بہا کو حیض کی حالت میں طلاق دے سکتا ہے۔
]١٨٩٣[(٩)اگر عورت ایسی ہو کہ حیض نہ آتا ہو کم سنی کی وجہ سے یا بڑھاپے کی وجہ سے ،پس چاہتا ہے کہ طلاق دے اس کو سنت کے طریقے پر تو طلاق دے اس کو ایک۔پس جب گزر جائے ایک ماہ تو طلاق دے دوسری اور جب گزر جائے ایک ماہ تو طلاق دے تیسری ۔
 تشریح  عورت ایسی ہے کہ چھوٹی ہونے کی وجہ سے یا بڑی عمر ہونے کی وجہ سے یا کسی مرض کی وجہ سے اس کو حیض نہیں آتا ہے۔اور شوہر چاہتا ہے کہ اس کو سنت طریقے سے ہر طہر میں طلاق دے اور تین طہر میں تین طلاقیں پوری کرے تو اس کے لئے یہ ہے کہ پہلی طلاق جب چاہے دے ۔پھر ہر ماہ ایک طلاق دے تو سنت کے مطابق ہوجائے گی۔  
وجہ  جس کو حیض نہ آتا ہواس کے لئے ہر ایک ماہ ایک طہر کے درجے میں ہے اس لئے ہر ماہ پر ایک طلاق دیدے(٢)آیت میں ہے  والتی یئسن من المحیض من نسائکم ان ارتبتم فعدتھن ثلثة اشھر (آیت ٤ سورة الطلاق ٦٥) اس آیت میں تین حیض کو تین مہینے قرار دیئے۔جس سے معلوم ہوا کہ ہر ماہ ایک حیض کے درجے میں ہے (٣) اثر میں ہے ۔عن الزھری فی البکر التی لم تحض والتی قعدت من الحیض طلاقھا کل ہلال تطلیقة (ج) (مصنف عبد الرزاق ، باب طلاق التی لم تحض ج سادس، ص ٣٤٣ نمبر ١١١١١) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ہر ماہ میں ایک طلاق دے۔
 
حاشیہ  :  (الف) عبد اللہ بن عمر کی حدیث میں ہے پھر حیض آئے پھر پاک ہو۔پھر چاہے تو اس کے بعد روک لے اور چاہے تو صحبت سے پہلے طلاق دے(ب) حضرت ثوری نے فرمایا شوہر باکرہ عورت کو حیض کی حالت میں طلاق دے ؟ فرمایا کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔اس لئے کہ اس کے لئے عدت نہیں ہے(ج) حضرت زہری نے فرمایا باکرہ عورت جس کو حیض نہ آتا ہو اور جو حیض سے بیٹھ گئی ہو اس کی طلاق ہر مہینے میں ایک طلاق ہے۔

Flag Counter