]١٨٨٩[(٥) والسنة فی الطلاق من وجھین سنة فی الوقت وسنة فی العدد]١٨٩٠[(٦) فالسنة فی العدد یستوی فیھا المدخول بھا وغیر المدخول بھا]١٨٩١[(٧) والسنة فی
باب کتاب الطلاق ج رابع ص ٣ نمبر ٣٨٤٥ سنن للبیہقی ، باب ماجاء فی طلاق السنة وطلاق البدعة ج سابع، ص ٥٣٢، نمبر١٤٩١٦) (٣) اوپر عبد اللہ بن عمر کی حدیث گزری جس میں تھا وان شاء طلق قبل ان یمس (بخاری شریف ،نمبر ٥٢٥١)جس سے معلوم ہوا کہ طہر میں وطی سے پہلے طلاق دے۔وطی کے بعد طلاق دینا بدعت ہے،لیکن یہ طلاق واقع ہو جائے گی۔
وجہ اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔قال طلق ابن عمر امرأتہ وھی حائض فذکر عمر للنبی ۖ فقال لیراجعھا قلت تحتسب قال فمہ؟ (الف) (بخاری شریف ، باب اذا طلقت الحائض تعتد بذلک الطلاق ص ٧٤٠ نمبر ٥٢٥٢ مسلم شریف، باب تحریم طلاق الحائض بغیر رضاھا الخ ص ٤٧٥ نمبر ٣٦٦٧١٤٧١ دار قطنی ، کتاب الطلاق ج رابع ص ٤ نمبر ٣٨٤٨)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حیض کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع ہوگی۔
]١٨٨٩[(٥) پس سنت طلاقیں دو طریقوں سے ہیں (١) وقت میں سنت (٢) اور عدد میں سنت۔
تشریح وقت میں سنت کا مطلب یہ ہے کہ ایسے وقت میں طلاق دے کہ طہر ہو،حیض کا زمانہ نہ ہو اور صحبت نہ کی ہو۔اور عدد میں سنت یہ ہے کہ ایک طلاق دے۔بیک وقت تین طلاق نہ دے۔
]١٨٩٠[(٦)پس عدد کی سنت میں مدخول بھا اور غیر مدخول بھا دونوں برابر ہیں۔
تشریح جس عورت سے صحبت کر چکا ہے سنت یہ ہے کہ اس کو بھی ایک ہی طلاق دے۔اور جس عورت سے صحبت نہیں کی ہے اس کے لئے بھی سنت یہ ہے کہ ایک ہی طلاق دے۔بیک وقت تین نہ دے۔ اس سنت میں دونوں برابر ہیں۔
وجہ اثر میں ہے۔عن ابراہیم قال کانوا (الصحابة) یستحبون ان یطلقھا واحدة ثم یترکھا حتی تحیض ثلاث حیض (ب) (مصنف ابن ابی شیبة ٢ ما یستحب من طلاق السنة وکیف ھو ؟ ج رابع ص ٥ مصنف عبد الرزاق،باب وجہ الطلاق وھو طلاق طلاق العدة والسنة ج سادس، ص ٥٨ نمبر١٧٧٣٧) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ایک طلاق دے کر چھوڑ دینا سنت ہے۔
]١٨٩١[(٧)اور سنت وقت میں ثابت ہے مدخول بہا کے حق میں خاص طور پر اور وہ یہ ہے کہ ایک طلاق دے ایسے طہر میں جس میں صحبت نہ کی ہو تشریح وقت کے اعتبار سے سنت کا اعتبار صرف مدخول بہابیوی کے ساتھ خاص ہے۔کیونکہ غیر مدخول بہا کوتو جب چاہے طلاق دے چاہے حیض کا زمانہ ہو یا طہر کا زمانہ ہو۔اور اس کی شکل یہ ہے کہ ایسے طہر میں طلاق دے جس میں وطی نہ کی ہو ۔
وجہ کیونکہ مدخول بہا کو حیض کے زمانے میں طلاق دینا بدعت ہے۔ اور جس طہرمیں جماع کیا ہو اس میں بھی طلاق دینا بدعت ہے (٢)
حاشیہ : (الف) حضرت عبد اللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی۔پس حضرت عمر نے حضورۖ سے اس کا تذکرہ کیا۔آپۖ نے فرمایا ان کو رجعت کر لینا چاہئے۔میں نے کہا یہ طلاق شمار کی جائے گی؟ فرمایا تو پھر کیا ہوگا ؟(ب)حضرت ابراہیم نے فرمایا صحابہ مستحب سمجھتے تھے کہ ایک طلاق دے پھر عورت کو چھوڑ دے۔یہاں تک کہ تین حیض گزر جائے۔