الناس استعجلوا فی امر قد کانت لھم فیہ اناة فلو امضیناہ علیھم فامضاھم علیھم (الف) (مسلم شریف ، باب طلاق الثلاث ص ٤٧٧ نمبر ١٤٧٢ نسائی شریف ، باب طلاق الثلاث المتفرقة قبل الدخول بالزوجة ص ٤٧٦ نمبر ٣٤٣٥) اس اثر میں اگرچہ ہے کہ حضورۖ کے زمانے میں اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے شروع زمانے میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک شمار کرتے تھے۔لیکن اسی حدیث کے آخر میں ہے کہ حضرت عمر کو اس کے منسوخ ہونے کا علم تھا اس لئے اس کو منسوخ کیا۔اور ان کے ہی زمانے میں بالاتفاق اس کو تین طلاق شمار کرنے لگے۔اثر کا آخری لفط ہے فامضاہ علیھم یعنی تین طلاقیں نافذ کردیں(٢)دوسرے اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ صحبت سے پہلے عورت کو تین طلاقیں دے تو اس کو ایک شمار کرتے تھے اور وہ تو ہم بھی کہتے ہیں۔اثر میں اس کا ثبوت ہے۔ان رجلا یقال لہ ابوا لصھباء کان کثیر السوال لابن عباس قال اما علمت ان الرجل کان اذا طلق امرأتہ ثلاثا قبل ان یدخل بھا جعلوھا واحدة علی عھد رسول اللہ وابی بکر وصدرا من امارة عمر قال ابن عباس بلی کان الرجل اذا طلق امرأتہ ثلاثا قبل ان یدخل بھا جعلوھا واحدة علی عھد النبی ۖ وابی بکر وصدرا من امارة عمر فلما رای الناس قد تتابعوا فیھا قال اجیزوھن علیھن (ب) (سنن للبیہقی ، باب من جعل الثلاث واحدة وما ورد نی خلاف ذلک ج سابع، ص ٥٥٤، نمبر ١٤٩٨٥ مصنف ابن ابی شیبة ٢٠ ماقالوا اذا طلق امرأتہ ثلاثا قبل ان یدخل بھا فھی واحدة ج رابع ،ص ٧٠، نمبر ١٧٨٧٢) اس اثر میں ہے کہ صحبت سے پہلے تین طلاق دے تو اس کو ایک طلاق شمار کرتے تھے۔لیکن لوگوں نے زیادتی کی تو ان کو بھی تین طلاقیں شمار کرنے لگے ۔یہ تو ہم بھی کہتے ہیں کہ غیر مدخول بھا کو ایک مجلس میں طلاق،طلاق،طلاق کہہ کر طلاق دے تو صرف پہلی طلاق واقع ہوگی اور باقی ضائع ہو جائے گی۔کیونکہ اب وہ طلاق کا محل باقی نہیں رہی(٣)آیت میں تین کو تین ہی مانا ہے۔اس لئے اس کو ایک کیسے مان سکتے ہیں۔آیت یہ ہے فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ (آیت ٢٣٠ سورة البقرة ٢) اس آیت میں ہے کہ تیسری طلاق دے تو حلالہ کے بغیر بیوی حلال نہیں ہے۔اس لئے تمام ائمہ کا اتفاق ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاقوں کو ایک ماننا صحیح نہیں ہے۔
نوٹ حیض کی حالت میں طلاق دے یا ایسے طہر میں طلاق دے جس میں جماع کر چکا ہو تو یہ بھی طلاق بدعی ہیں۔
وجہ حیض کی حالت میں طلاق دینا مبغوض ہے۔اس کی دلیل حدیث ابن عمر گزری کہ حضرت عبد اللہ بن عمر کے طلاق دینے پر آپۖ ناراض ہوئے اور رجعت کرنے کا حکم دیا۔اور طہر میں جماع کیا ہوپھر طلاق دی ہو اس کے مبغوض ہونے کی دلیل یہ اثر ہے۔عن ابن عباس یقول ... اما الحرام فان یطلقھا وھی حائض او یطلقھا حین یجامعھا لا تدری اشتمل الرحم علی ولد ام لا (ج) (دار قطنی ،
حاشیہ : (الف) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضورۖ،ابو بکر اور حضرت عمر کی خلافت کے دو سال تک تین طلاقیں ایک تھیں۔پس حضرت عمر نے فرمایا لوگوں نے اس معاملے میں جلدی کی جس میں سہولت تھی تو کیا ان پر نافذ کردیں ؟ چنانچہ ان پر تین طلاقیں نافذ کردی(ب) حضرت ابو صہبا حضرت ابن عباس سے بہت سوال کیا کرتے تھے۔چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آدمی صحبت سے پہلے تین طلاقیں دے تو حضورۖ،حضرت ابوبکر اور امارت حضرت عمر کے شروع زمانے میں ان کو ایک قرار دیتے تھے۔حضرت ابن عباس نے فرمایا ہاں ! کہ شوہر صحبت سے پہلے تین طلاقیں دے توحضورۖ،حضرت ابوبکر اورامارت حضرت عمر کے شروع زمانے میں ایک قرار دیتے تھے۔ پس جب دیکھا کہ لوگ اس میں زیادتی کر رہے ہیں تو لوگوں پر تین طلاقیں نافذ کردی(ج) بہر حال طلاق حرام یہ ہے کہ عورت کو حیض کی حالت میں طلاق دے۔یا ایسی حالت میں طلاق دے کہ اس سے جماع کر چکا ہو۔معلوم نہیں رحم میں بچہ ہے یا نہیں۔