Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 3 - یونیکوڈ

238 - 448
]٢١٨٧[(٦٠) وعلی المولی ان ینفق علی عبدہ وامتہ]٢١٨٨[(٦١) فان امتنع من ذلک وکان لھما کسب اکتسبا وانفقا منہ]٢١٨٩[(٦٢) وان لم یکن لھما کسب اُجبر 

(غلام،باندی کے نفقے کے احکام)
]٢١٨٧[(٦٠)آقا پر واجب ہے کہ وہ خرچ کرے اپنے غلام پر اور باندی پر ۔
 وجہ  غلام اور باندی مولی کے لئے کام کرتے ہیں ۔اس لئے اس پر ان کا نفقہ واجب ہے (٢) حدیث میں ہے۔عن ابی ھریرة عن رسول اللہ ۖ انہ قال للمملوک طعامہ وکسوتہ ولا یکلف من العمل الا ما یطیق (الف) (مسلم شریف،باب اطعام المملوک مما یأکل والباسہ مما یلبس ولا یکلفہ ما یغلبہ ص ٥١ نمبر ١٦٦٢،کتاب الایمان ) اور بخاری شریف میں ہے۔رأیت ابا ذر الغفاری وعلیہ حلة وعلی غلامہ حلة ... ثم قال ان اخوانکم خولکم جعلھم اللہ تحت ایدیکم فمن کان اخوہ تحت یدہ فلیطعمہ مما یأکل ولیلبسہ مما یلبس ولا تکلفوھم ما یغلبھم فان کلفتموھم ما یغلبھم فاعینوھم (ب) (بخاری شریف، باب قول النبی ۖ العبید اخوانکم فاطعموھم مما تأکلون ص ٣٤٦ نمبر ٢٥٤٥ مسلم شریف ، باب اطعام المملوک مما یأکل والباسہ مما یلبس ولا یکلفہ ما یغلبہ ص ٥١ نمبر ١٦٦١) ان دونوں احادیث سے معلوم ہوا کہ مملوک کا نفقہ آقا پر واجب ہے۔
]٢١٨٨[(٦١) پس اگر اس سے رک گیا اور ان کا کمایا ہوا کچھ مال ہو تو اس میں سے اپنے اوپر خرچ کرلیں۔  
تشریح  آقا غلام باندی کا نفقہ دینے سے انکار کر گیا تو دوسری صورت یہ ہے کہ اگر وہ کچھ کام کرتے ہوں تو اس کام کی اجرت سے اپنا نفقہ وصول کرتے رہیںگے۔یا پہلے سے کمایا ہوا مال ان کے پاس ہو تب بھی اس سے اپنا نفقہ وصول کرتے رہیںگے ۔
 وجہ  اس طرح غلام باندی کی زندگی بچ جائے گی۔چانکہ یہ آقا کا مال ہے تو آقاکا مال بھی ضائع ہونے سے بچ جائے گا(٢) حدیث میں اس کا اشارہ ہے۔عن انس بن مالک قال حجم ابو طیبة النبی فامر لہ بصاع او صاعین من طعام وکلم موالیہ فخفف عن غلتہ او ضریبتہ (ج) (بخاری شریف ، باب ضریبة العبد وتعاہد ضرائب الامار ص ٣٠٤ نمبر ٢٢٧٧) اس حدیث میں ابو طیبہ غلام پر ٹیکس لازم کیا ہے جو زیادہ ہے ۔اور ہو سکتا ہے کہ وہ اسی اجرت سے اپنا نفقہ وصول کرتا ہو۔
]٢١٨٩[(٦٢)اور اگر ان کی کوئی کمائی نہ ہو تو زور دیا جائے گا آقا پر ان کے بیچ دینے کا۔  
 
حاشیہ  :  (الف) آپۖ نے فرمایا مملوک کے لئے اس کا کھانا اور کپڑا ہے اور طاقت سے زیادہ کام کا مکلف نہ بنائے (ب) میں نے حضرت ابوذر پر ایک حلہ دیکھا اور ان کے غلام پر اسی رنگ کا حلہ دیکھا ... پھر فرمایا تمہارا بھائی تمہارا غلام بنا ہے ،اور اللہ نے تمہارے ہاتھ نیچے کیا ہے۔ پس جس کا بھائی اس کے نیچے ہو اس کو وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے۔اور اس پر ایسا کام نہ ڈالے جو اس کو مغلوب کردے۔اور ایسا کام ڈال دیا جو اس کو مغلوب کردے تو اس کی مدد کرو (ج)حضرت ابو طیبہ نے حضورۖ کا پچھنا لگایا۔پس آپۖ نے ان کے لئے ایک صاع یا دو صاع کھانا دینے کا حکم دیا۔اور ان کے آقا سے بات کی تو انہوں نے ان کا ٹیکس کم کر دیا ۔

Flag Counter