یضمنا ]٢١٨٥[(٥٨) وان کان لہ مال فی ید اجنبی فانفق علیھما بغیر اذن القاضی ضمن ]٢١٨٦[(٥٩) واذا قضی القاضی للولد والوالدین ولذوی الارحام بالنفقة فمضت مدة سقطت الا ان یأذن لھم القاضی فی الاستدانة علیہ۔
سے اپنا مناسب نفقہ وصول کر سکتے ہیں ۔اور ایسا کرلیا تو اس کا ضمان بھی لازم نہیں ہوگا۔
]٢١٨٥[(٥٨)اور اگر غائب کا مال اجنبی کے ہاتھ میں ہو اور اس نے والدین پر خرچ کیا بغیر قاضی کی اجازت کے تو وہ ضامن ہوگا۔
تشریح غائب لڑکے کا مال کسی اجنبی آدمی کے پاس تھا اس نے والدین پر بغیر قاضی کی اجازت کیخرچ کر دیا تو اجنبی آدمی اس مال کا ضامن ہو جائے گا۔
وجہ والدین کو اس مال میں نفقہ لینے کا حق تھا جو خود والدین کے پاس ہو۔اور جو مال اجنبی کے پاس ہے وہ اس کا محافظ ہے اس کو کسی پر خرچ کرنے کی اجازت نہیں ہے چاہے غائب کے والدین ہی کیوں نہ ہوں؟ اس لئے اس پر خرچ کرنے سے محافظ ضامن بن جائے گا۔البتہ قاضی نے حکم دیا تو چونکہ اس کے لئے اذن عام ہے اس لئے محافظ ضامن نہیں ہوگا۔
]٢١٨٦[(٥٩)اگر قاضی نے لڑکے کے لئے ،والدین کے لئے ،ذی رحم محرم کے لئے نفقے کا فیصلہ کیا اور ایک مدت گزر گئی تو نفقہ ساقط ہو جائے گا مگر یہ کہ قاضی اس کے اوپر قرض لینے کی اجازت دے ۔
تشریح قاضی نے لڑکے کے لئے ،والدین کے لئے اور ذی رحم محرم کے لئے نفقے کا فیصلہ کیا لیکن اس کے اوپر قرض لینے کا فیصلہ نہیں کیا ۔پھر ایک مدت گزر گئی جس کی ان لوگوں نے نفقہ نہیں لیا تو یہ نفقہ ساقط ہو جائے گا۔
وجہ یہ نفقہ مزدوری نہیں ہے بلکہ صلہ ہے اور احتیاج کی وجہ سے لازم کیا گیا ہے۔اور جب ایک مدت تک نفقہ نہیں لیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس زمانے میں نفقے کی ضرورت نہیں رہی۔اس لئے اس زمانے کا نفقہ ساقط ہو جائے گا (٢) اثر میں ہے کہ قرض لینے کا فیصلہ کیا ہو تب تو ساقط نہیں ہوگا،اور قرض لینے کا فیصلہ نہیں کیا تو ساقط ہو جائے گا ۔عن النخعی اذا ادانت اخذ بہ حتی یقضی عنھا وان لم تستدن فلا شیء لھا علیہ اذا اکلت من مالھا۔قال معمر ویقول اخرون من یوم ترفع امرھا الی السلطان (الف) (مصنف عبد الرزاق ، باب المرأة یابق زوجہا وھو عبدالمرأة یأبق ج سابع، ص ٩٤ نمبر ١٢٣٤٩) اس اثر میں ہے کہ قرض لیا ہو تو نفقہ لے سکتا ہے اور قرض نہ لیا ہو بلکہ اپنا مال کھایا ہو تو اس مدت کا نفقہ ساقط ہو جائے گا لغت الاستدانة : دین سے مشتق ہے،قرض لینا۔
حاشیہ : (الف) حضرت ابراہیم نخعی نے فرمایا اگر عورت نے قرض لیا تو وہ شوہر سے لیا جائے گا جب تک کہ الگ ہونے کا فیصلہ نہ کرے۔اور اگر قرض نہیں لیا تو عورت کا شوہر پر کچھ نہیں ہے اگر اس نے اپنا مال کھایا۔حضرت معمر نے فرمایا دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ جس دن سے معاملہ بادشاہ کے پاس لے گئی اس دن سے نفقہ لے گی۔