Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 3 - یونیکوڈ

144 - 448
اربعة اشھر تطلیقة اخری فان تزوجھا بعد زوج آخر لم یقع بذلک الایلاء طلاق والیمین باقیة فان وطیھا کفر عن یمینہ]١٩٩٥[(٦) فان حلف علی اقل من اربعة اشھر لم یکن مولیا]١٩٩٦[(٧) وان حلف بحج او بصوم او بصدقة او عتق او طلاق فھو مول۔ 

جائے گا۔اور چار ماہ کے اندر مل لیا تو کفارہ لازم ہوگا اور نہیں ملا تو تیسری طلاق واقع ہو جائے گی۔اور اب حلالہ کے بغیر اس عورت سے شادی کرنا حرام ہوگا۔پس اگر حلالہ کے بعد یہ عورت پہلے شوہر کے پاس آئی تو اب پچھلا ایلاء بحال نہیں ہوگا۔اور چار ماہ تک نہ ملے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔کیونکہ زوج ثانی کی وجہ سے حل جدید اور نکاح جدید کے ساتھ پہلے شوہر کے پاس آئی ہے۔البتہ جب بھی صحبت کرے گا تو کفارہ لازم آئے گا۔کیونکہ ہمیشہ کی قسم کھانے کی وجہ سے ابھی بھی قسم برقرار ہے۔  
وجہ  اثر میں ہے۔عن ابراہیم قال اذا مضت الا شھر فقد بانت منہ فان تزوجھا بعد ذلک فھو مول ایضا وان لم یمسھا حتی تمضی الاشھر فقد بانت منہ وان تزوجھا بعد ذلک فہو مول ایضا وان لم یمسھا حتی تمضی الاشھر بانت منہ ایضا (الف) (مصنف عبد الرزاق ، باب الذی یحلف بالطلاق ثلاثا ان لا یقر بھا ھل یکون ایلاء ؟ ج سادس ص٤٥٣ نمبر ١١٦٣٦) اس اثر سے معلوم ہوا کہ تین مرتبہ تک طلاق واقع ہوگی۔
]١٩٩٥[(٦)پس اگر چار مہینے سے کم کی قسم کھائی تو ایلا کرنے والا نہیں ہوگا۔   
وجہ  آیت میں تصریح ہے کہ چار ماہ کی قسم ہو اس کو ایلاء کہتے ہیں ۔اس لئے چارماہ سے کم کی قسم کھائی تو وہ ایلاء نہیں ہوگا جس سے طلاق بائنہ واقع ہو۔للذین یؤلون من نسائھم تربص اربعة اشھر (آیت ٢٢٦ سورة البقرة ٢) (٢) اثر میں ہے ۔عن ابن عباس قال کان ایلاء اھل الجاھلیة السنة والسنتین و اکثر من ذلک فوقت اللہ عزوجل لھم اربعة اشھر فان کان ایلاء ہ  اقل من اربعة اشھر فلیس بایلاء (ب) (سنن للبیہقی ، باب الرجل یحلف لا یطأ امرأتہ اقل من اربعة اشھرج سابع، ص ٦٢٥، نمبر ١٥٢٣٧ مصنف ابن ابی شیبة ١٢٥ ماقالوا فی الرجل یولی دون الاربعة اشھر من قال لیس بایلاء س رابع، ص ١٣٥، نمبر ١٨٥٨١) اس اثر سے معلوم ہوا کہ چار ماہ سے کم کی قسم کھائی تو ایلاء نہیں ہوگا۔
]١٩٩٦[(٧) اگر قسم کھائی حج کی یا روزہ کی  یا صدقہ کی یا آزاد کرنے کی یا طلاق کی تو وہ ایلاء کرنے والا ہے۔  
تشریح  مثلا یوں کہے کہ اگر میں چار ماہ تک بیوی کے پاس جاؤں تو مجھ پر حج لازم یا مجھ پر روزہ لازم یا مجھ پر صدقہ لازم یا میرا غلام آزاد یا میری بیوی کو طلاق تو ایسی صورت میں ایلاء منعقد ہو جائے گا۔  

حاشیہ  :  (الف) ابراہیم نے فرمایا اگر چار ماہ گزر جائے تو اس سے بائنہ ہوگی۔پس اگر اس کے بعد اس شوہر سے شادی کی تو ایلاء کرنے والا ہوگا۔ اور اگر صحبت نہیں کی یہاں تک کہ چار ماہ گزر گئے تو بائنہ ہو جائے گی۔اور اگر اس کے بعد شادی کی تو پھر ایلاء کرنے والا ہوگا۔اور اگر صحبت نہیں کی یہاں تک کہ چار ماہ گزر گئے تو پھر بائنہ ہو جائے گی(ب) حضرت ابن عباس نے فرمایا زمانۂ جاہلیت میں ایلاء ایک سال دوسال تک یا اس سے زیادہ ہوتا تھا ۔پس اللہ نے اس کے لئے چار ماہ متعین کردیا ۔پس اگر ایلاء چار ماہ سے کم ہوتو وہ ایلاء نہیں ہے۔

Flag Counter