]١٩٩٧[(٨) وان آلی من المطلقة الرجعیة کان مولیا وان آلی من البائنة لم یکن مولیا]١٩٩٨[(٩) ومدة ایلاء الامة شہران]١٩٩٩[(١٠) وان کان المولی مریضا لایقدر علی الجماع او کانت المرأة مریضة او کانت رتقاء او صغیرة لا یجامع مثلھا او
وجہ قاعدہ یہ ہے کہ ہر وہ کام کہ کے شرط پر قسم جس سے بیوی شوہر کا ملنا دشوار ہو جائے اس سے ایلاء کا انعقاد ہوتا ہے۔ صورت مذکورہ میں چار مہینے کے اندر اندر بیوی سے ملے گا تو حج وغیرہ لازم ہوگا یا بیوی کو طلاق واقع ہوگی جن کی وجہ سے بیوی سے ملنا دشوار ہو گیا اس لئے ایلاء ہو جائے گا (٢) اثر میں ہے۔عن ابن عباس قال کل یمین منعت جماعا فھی ایلاء وروینا ایضا عن الشعبی والنخعی(الف)(سنن للبیہقی،باب کل یمین منعت الجمع بکل حال اکثر من اربعة اشھر بان یحنث الحالف فھی ایلاء ج سابع ،ص ٦٢٦، نمبر ١٥٢٣٩ مصنف عبد الرزاق باب ما حال بینہ وبین امرأتہ فھو ایلاء ج سادس ص ٤٤٨ نمبر ١١٦١١) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ہر وہ قسم جو صحبت روک دے اس سے ایلاء منعقد ہوگا۔
]١٩٩٧[(٨) اگر مطلقہ رجعیہ سے ایلاء کیا تو ایلاء کرنے والا ہوگا۔اور اگر بائنہ سے ایلاء کیا تو ایلاء کرنے والا نہیں ہوگا ۔
وجہ مطلقہ رجعیہ عدت کے اندر ہر اعتبار سے بیوی ہے اس لئے اس سے ایلاء ہوگا۔اور مطلقہ بائنہ اب بیوی نہیں رہی اس لئے اس سے ایلاء نہیں ہوگا (٢) آیت میں ہے کہ بیوی سے ایلاء ہوگا اگر بیوی نہ ہو ایلاء نہیں ہوگا۔للذین یؤلون من نسائھم (آیت ٢٢٦ سورة البقرة٢) اس آیت میں نسائھم سے پتہ چلا کہ بیوی ہوتو ایلاء ہوگا ورنہ نہیں۔
]١٩٩٨[(٩)باندی کی مدت ایلاء دو مہینے ہیں۔
تشریح باندی بیوی ہو تو اگر یوں کہے کہ دو ماہ تک تمہارے پاس نہیں جاؤں گا تو ایلاء ہو جائے گا۔
وجہ اثر میں ہے کہ باندی کی مدت ایلاء آزاد سے آدھی ہے۔عن الحسن انہ کان یقول فی الایلاء من الامة اذا مضی شھران ولم یفیء زوجھا فقد وقع الایلاء (ب) (مصنف ابن ابی شیبة ١٣٠، ماقالوا فی الرجل یولی من الامة کم ایلاؤھا ج رابع ،ص ١٣٧، نمبر ١٨٦٠٥) اس اثر سے معلوم ہوا کہ باندی کی مدت ایلاء دو ماہ ہیں ۔
]١٩٩٩[(١٠)اگر ایلاء کرنے والا بیمار ہو جس کی وجہ سے جماع پر قدرت نہ رکھتا ہو۔یا عورت بیمار ہو یا بند راستہ والی ہو یا اتنی چھوٹی ہو کہ اس سے وطی نہ ہو سکتی ہو یا دونوں کے درمیان اتنی مسافت ہو کہ ایلاء کی مدت میں وہاں تک پہنچنے کی قدرت نہ ہو تو اس کا رجوع یہ کہہ دینا ہے کہ میں اس کی طرف رجوع کر لیا۔جب یہ کہہ دے تو ایلاء ساقط ہو جائے گا۔
تشریح یہ مسئلے اس قاعدے پر ہیں کہ کسی مجبوری کی وجہ سے عورت سے جماع پر قدرت نہیں ہے تو پھر جماع کرنا ضروری نہیں ہوگا۔بلکہ زبان
حاشیہ : (الف) حضرت ابن عباس نے فرمایا ہر وہ قسم جو جماع کو روک دے تو وہ ایلاء ہے۔حضرت شعبی سے بھی یہی منقول ہے(الف) حضرت حسن باندی کے ایلاء کے بارے میں فرماتے تھے اگر دو ماہ گزر جائے اور شوہر رجوع نہ کرے تو ایلاء واقع ہو جائے گا۔