]١٩٩٣[(٤) فان کان حلف علی اربعة اشھر فقد سقطت الیمین]١٩٩٤[(٥) وان کان حلف علی الابد فالیمین باقیة فان عاد فتزوجھا عاد الایلاء فان وطیھالزمتہ الکفارة والا وقعت بمضی اربعة اشھر تطلیقة اخری فان تزوجھا ثالثا عاد الایلاء ووقعت علیھا بمضی
وجہ اثر میں ہے۔ عن ابن عمر اذا مضت اربعة اشھر یوقف حتی یطلق ولا یقع علیہ الطلاق حتی یطلق ویذکر ذلک عن عثمان وعلی وابی الدرداء وعائشة واثنی عشر رجلا من اصحاب النبی ۖ (الف) (بخاری شریف ، باب قول اللہ تعالی للذین یؤلون من نسائھم ص ٧٩٧ نمبر ٥٢٩١ دار قطنی ، کتاب الطلاق ج رابع ،ص ٣٣ نمبر ٣٩٩٥سنن للبیہقی ، باب من قال یوقف المولی بعد تربص اربعة اشہر فان فاء وا لاطلق ج رابع، ص ٣١٨، نمبر ١٥٢٠٨) اس اثر سے معلوم ہوا کہ چار ماہ گزر جانے کے بعد توقف کیا جائے گا،یاتو واپس رکھ لے یا شوہر طلاق دے کر جدا کردے۔
]١٩٩٣[(٤)پس اگر چار مہینے کی قسم کھائی تو قسم ساقط ہو جائے گی۔
تشریح چار مہینے تک بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی تھی وہ پوری کردی اور بیوی کو ایک طلاق واقع ہو کر بائنہ ہو گئی۔اس لئے اب قسم پوری ہوگئی۔ اب اگر دو بارہ اس عورت سے شادی کرکے صحبت کرے گا تو نہ طلاق واقع ہوگی اور نہ کفارہ لازم ہوگا۔
وجہ کیونکہ چار مہینے ہی کی قسم تھی جو پوری ہو گئی۔
]١٩٩٤[(٥)اور اگر قسم کھائی ہمیشہ کے واسطے تو قسم باقی رہے گی،پس اگر لوٹ کر اس سے شادی کرے تو ایلاء لوٹ آئے گا،پس اگر اس سے صحبت کی تو شوہر کو کفارہ لازم ہوگا ورنہ تو واقع ہوگی دوسری طلاق چار مہینے گزرنے پر،پس اگر اس سے شادی کی تیسری مرتبہ تو ایلاء لوٹ آئے گا اور واقع ہوگی اس پر چار ماہ گزرنے پر تیسری طلاق،پس اگر شادی کی اس عورت سے دوسرے شوہر کے بعد تو اس ایلاء سے طلاق واقع نہیں ہوگی اور قسم باقی رہے گی،پس اگر صحبت کی تو اپنی قسم کا کفارہ دے گا۔
تشریح یہ مسئلہ دو قاعدوں پر مشتمل ہے۔ ایک تو یہ کہ ہمیشہ کے لئے قسم کھائی تو زندگی میں جب بھی اس بیوی سے صحبت کرے گا کفارہ دینا ہوگا کیونکہ قسم باقی ہے۔اور دوسرا قاعدہ یہ ہے کہ اس ایلاء کا انعقاد زوج ثانی سے پہلے پہلے تک ہوگا،زوج ثانی کے بعد واپس آئے گی تو اس ایلاء کا انعقاد نہیں ہوگا۔اور اس کے بعد چار مہینے نہ ملنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ان قاعدوں کو سمجھنے کے بعد مسئلے کی تشریح یہ ہے کہ شوہر نے ہمیشہ نہ ملنے کی قسم کھائی ،پس اگر چار ماہ میں مل گیا تو ایلاء ختم ہو گیا البتہ قسم کا کفارہ لازم ہو گا۔اور اگر نہیں ملا تو ایک طلاق بائنہ واقع ہوگی۔پھر دو بارہ اس عورت سے شادی کی تو پھر ایلاء بحال ہو جائے گا کیونکہ ہمیشہ کی قسم باقی ہے۔اگر اس مرتبہ چار ماہ کے اندر مل گیا تو ایلاء ختم ہو جائے گا اور کفارہ لازم ہوگا ۔اور اگر نہیں ملا تو چار ماہ گزرنے پر دوسری طلاق واقع ہوگی۔ پھر اگر تیسری مرتبہ اس عورت سے شادی کی تو پھر ایلاء بحال ہو
حاشیہ : (الف) ابن عمر سے منقول ہے کہ چار ماہ گزر جائے تو ٹھہرایاجائے گا،یہاں تک کہ طلاق دے ۔طلاق واقع نہیں ہوگی یہاں تک کہ طلاق دے۔یہ حضرت عثمان،علی،ابو درداء اور حضرت عائشہ اور دس صحابہ سے منقول ہے۔