الطلاق علیھا]١٩٦٧[(٨٣) وان قال لھا انت طالق ثلثا الا واحدة طلقت ثنتین]١٩٦٨[(٨٤) وان قال ثلثا الا ثنتین طلقت واحدة]١٩٦٩[(٨٥) واذا ملک
انت طالق ان شاء اللہ او غلامہ انت حر ان شاء اللہ او علیہ المشی الی بیت اللہ ان شاء اللہ فلا شیء علیہ (الف) (سنن للبیہقی ، باب الاستثناء فی الطلاق والعتق والنذر کھو فی الایمان لا یخالفھا ج سابع ،ص٥٩٣، نمبر ١٥١٢٣) اس سے بھی معلوم ہوا کہ ان شاء اللہ کہے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔
اگر ان شاء اللہ متصلا نہیں کہا تو اس کااعتبار نہیں ہے۔
وجہ اثر میں ہے۔عن الثوری فی رجل حلف بطلاق امرأتہ ان لایکلم فلانا شھرا ثم قال بعد ذلک الا ان یبدو لی قال ان اتصل الکلام فلہ الاستثناء وان قطعہ وسکت ثم استثنی بعد ذلک فلا اتثناء لہ(ب) (مصنف عبد الرزاق ، باب الاستثناء فی الطلاق ج سادس ،ص ٣٨٥، نمبر ١١٣٠٥) عن ابن عمر قال کل استثناء غیر موصول فصاحبہ حانث (دار قطنی ، کتاب الوکالة ج رابع ص ٩٤ نمبر ٤٢٨٤)اس اثر سے معلوم ہوا کہ ان شاء اللہ منفصلا کہے تو اس کا اعتبار نہیں ہے۔یہ تو بعد میں بات کو پھیرنا ہے۔
]١٩٦٧[(٨٣)اگر بیوی سے کہا تم کو طلاق ہے تین مگر ایک تو طلاق واقع ہوگی دو۔
وجہ تین طلاق میں سے ایک کو استثناء کرکے ساقط کر دیا تو دو طلاقیں رہیں اس لئے دو طلاقیں ہی واقع ہوںگی (٢) حدیث میںایسا استثناء ہے۔ عن ابی ھریرة ان رسول اللہ قال ان للہ تسعة وتسعین اسما مائة الا واحدا من احصاھا دخل الجنة (ج) (بخاری شریف ، باب ان للہ مائة اسم الا واحدة ص ١٠٩٩ نمبر ٧٣٩٢،کتاب التوحید مسلم شریف ، باب فی اسماء اللہ تعالی وفضل من احصاھا ص ٣٤٢ نمبر ٢٦٧٧)اس حدیث میں سو میں سے ایک کو استثناء کیا جس کی بنا پر نناوے نام باقی رہے۔
]١٩٦٨[(٨٤)اور اگر کہا تین طلاقیں مگر دو تو واقع ہو گی ایک۔
تشریح شوہر نے کہا تم کو تین طلاقیں ہیں مگر دو تو ایک طلاق واقع ہوگی۔
وجہ اس لئے کہ تین میں سے دو کو استثناء کر دیا تو ایک باقی رہی۔اس لئے ایک طلاق واقع ہوگی۔حدیث اوپر گزر گئی۔
اصول استثناء کرنے کے بعد جو باقی رہتاہے اعتبار اس کا ہوتا ہے۔
]١٩٦٩[(٨٥) اگر شوہر اپنی بیوی کا مالک بن جائے یا اس کے ایک حصے کا یا بیوی اپنے شوہر کامالک بن جائے یا اس کے ایک حصے کا تو دونوں کے درمیان فرقت واقع ہو جائے گی۔
حاشیہ : (الف) آپۖ نے فرمایا جس نے اپنی بیوی سے کہا تم کوطلاق ہے ان شاء اللہ۔ یا غلام سے کہا تم آزاد ہو ان شاء اللہ۔ یا مجھ کو بیت اللہ تک جانا ہے ان شاء اللہ تو اس پر کچھ نہیں ہے (ب) حضرت ثوری نے فرمایا کوئی آدمی بیوی کو طلاق دینے کی قسم پر کہے کہ فلاں سے ایک ماہ بات نہیں کروں گا ۔پھر اس کے بعد کہا مگر یہ کہ میرا جی چاہے۔فرمایا اگر متصلا کہا تو اس کے لئے استثناء ہے۔اور اگر منقطع کر دیا اور چپ رہا پھر اس کے بعد استثناء کیا تو اس کے لئے استثناء نہیں ہے(ج) آپۖ نے فرمایا اللہ کے لئے نناوے نام ہیں ،سو مگر ایک ۔جو ان کو گنے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔