بائنا فمات وھی فی العدة ورثت منہ]١٩٦٥[(٨١) وان مات بعد انقضاء عدتھا فلا میراث لھا]١٩٦٦[(٨٢) واذا قال لامرأتہ انت طالق ان شاء اللہ تعالی متصلا لم یقع
توریث المبتوتة فی مرض الموت ج سابع ،ص ٥٩٣، نمبر ١٥١٢٤ مصنف ابن ابی شیبة ٢٠١ ماقالوا فی الرجل یطلق امرأتہ ثلاثا وھو مریض ھل ترثہ؟ ج رابع ،ص ١٧٦، نمبر ١٩٠٢٨ مصنف عبد الرزاق ، باب المطلقة یموت عنھا زوجھا وھی فی عدتھا او تموت فی العدة ج سادس ص ٤٧٠ نمبر ١١٧٠٩) اس اثر سے معلوم ہوا کہ عورت عدت میں ہوتو وارث بنے گی (٢) شوہر طلاق دے کر عورت کو اپنی وراثت سے محروم کرنا چاہتا تھا لیکن شریعت نے اس کی بات نہیں چلنے دی اور وارث بنایا (٣) عدت تک بیوی کسی نہ کسی انداز میں بیوی رہتی ہے اس لئے اس کو بیوی مان کر وارث بنایا۔اور عدت کے بعد بالکل جدا ہو جاتی ہے اس لئے اب اس کو وراثت نہیں ملے گی۔
فائدہ امام شافعی کی ایک روایت یہ ہے کہ بائنہ عورت وارث نہیں ہوگی۔
وجہ اس لئے کہ وہ شوہر سے الگ ہو گئی (٢) اوپر اثر میں حضرت ابن زبیر کا یہ قول گزرا کہ واما انا فلا اری ان ترث مبتوتة (سنن للبیہقی ج سابع ،ص٥٩٣، نمبر ١٥١٢٤) جس سے معلوم ہوا کہ مبتوتہ وارث نہیں ہوگی۔
]١٩٦٥[(٨١)اور اگر مر گیا اس کی عدت ختم ہونے کے بعد تو اس کو میراث نہیں ملے گی۔
وجہ عدت گزرنے کے بعد بالکل جدا ہو جاتی ہے چاہے طلاق بائنہ ہو چاہے طلاق رجعی ،اس لئے اب اس کو وراثت نہیں ملے گی (٢) اثر میں ہے۔اتانی عروة البارقی من عند عمر فی الرجل یطلق امرأتہ ثلاثا فی مرضہ،انھا ترثہ مادامت فی العدة ولا یرثھا (الف) (مصنف ابن ابی شیبہ٢٠٢ من قال ترثہ مادامت فی العدة منہ اذا طلق وھو مریض ج رابع، ص ١٧٧، نمبر ١٩٠٣١ سنن للبیہقی ، باب ماجاء فی توریث المبتوتة فی مرض الموت ج سابع، ص ٥٩٥، نمبر ١٥١٣١) اس اثر سے معلوم ہوا کہ عدت کے بعد شوہر مرا تو عورت وارث نہیں ہوگی۔
( طلاق میں استثناء کا بیان)
]١٩٦٦[(٨٢)اگر اپنی عورت سے کہا تجھے طلاق ہے ان شاء اللہ متصلا تو اس پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔
تشریح کسی نے طلاق دینے کے ساتھ ہی متصلا ان شاء اللہ کہا تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔
وجہ (١) ان شاء اللہ کے معنی ہیں اگر اللہ چاہے۔اور اللہ کے چاہنے کا پتہ نہیں اس لئے طلاق واقع نہیں ہوگی (٢) حدیث میں ہے۔عن ابن عمر یبلغ بہ النبی قال من حلف علی یمین فقال ان شاء اللہ فقد استثنی (ب) (ابو داؤد شریف ، باب الاستثناء فی الیمین ص ١٠٨ نمبر ٣٢٦١ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الاستثناء فی الیمین ص ٢٧٩ نمبر ١٥٣١ ابن ماجہ شریف،نمبر ٢١٠٤) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان شاء اللہ متصلا کہے تو اس کام سے حانث نہیں ہوگا۔ اور یہی حال طلاق کا ہے۔عن ابن عباس ان رسول اللہ قال من قال لامرأتہ
حاشیہ : (الف) عروہ بارقی حضرت عمر کے پاس سے آئے ایک مرد کے بارے میں،جس نے اپنی بیوی کو مرض میں تین طلاقیں دیں تو عورت کو وارث بنایا جب تک عدت میں ہو اور مرد اس کا وارث نہیں بنے گا(ب) حضورۖ نے فرمایا کسی نے کوئی قسم کھائی پھر کہا ان شاء اللہ تو استثناء کیا۔یعنی قسم واقع نہیں ہوگی۔