قال طلقھا ان شئت فلہ ان یطلقھا فی المجلس خاصة ]١٩٦٣[(٧٩) وان قال لھا ان کنت تحبینی او تبغضینی فانت طالق فقالت انا احبک او ابغضک وقع الطلاق وان کان فی قلبھا خلاف ما اظھرت]١٩٦٤[(٨٠) وان طلق الرجل امرأتہ فی مرض موتہ طلاقا
مجلس کے بعد نہیں۔
وجہ ان شئت کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر مصلحت سمجھیں تو ابھی طلاق دے دیں اس لئے یہ اختیار مجلس کے ساتھ خاص ہوگا۔ اور مجلس ہی میں طلاق دے سکے گا بعد میں نہیں۔
]١٩٦٣[(٧٩)اگر عورت سے کہا کہ تم مجھ سے محبت یا بغض رکھتی ہو تو تجھے طلاق ہے۔ پس عورت نے کہا میں تم سے محبت رکھتی ہوں یا بغض رکھتی ہوں تو طلاق واقع ہوگی اگر چہ اس کے دل میں اس کے خلاف ہو جو ظاہر کیا ۔
تشریح شوہر نے عورت سے کہا کہ اگر تم کو مجھ سے محبت ہے تو تم کو طلاق۔اس پر عورت نے کہا کہ مجھ کو تم سے محبت ہے اور دل میں نفرت تھی پھر بھی طلاق واقع ہوجائے گی۔
وجہ دل کے اندر کیا ہے اس پر فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ زبان سے جو جملہ نکالا اس پر فیصلہ ہوگا۔اور زبان سے یہ نکالا کہ کہ مجھ کو تم سے محبت ہے اس لئے طلاق واقع ہو جائے گی (٢) اثر میں ہے کہ جو ظاہر ہو اس کا اعتبار ہے جو پوشیدہ ہو اس کا اعتبار نہیں ہے۔عن الشعبی قال النیة فیما خفی فاما فیما ظھر فلا نیة فیہ۔دوسرے اثر میں ہے۔عن الحسن فی رجل طلق امرأتہ واحدة ینوی ثلاثا قال ھی واحدة (الف) (مصنف ابن ابی شیبة ٩٦ ماقالوا فی رجل یطلق امرأتہ واحدة ینوی ثلاثا ،ج رابع، ص ١١٥، نمبر ١٨٣٦٢١٨٣٦١ ) اس اثر میں ہے کہ طلاق ایک دی ہو اور تین کی نیت کی ہو تو ایک واقع ہوگی تین نہیں ۔ جس سے معلوم ہوا کہ لفظ کا اعتبار ہے دل کے تاثر کا نہیں ۔
]١٩٦٤[(٨٠)اگر شوہر نے اپنی بیوی کو اپنے مرض الموت میں طلاق بائن دی پھر مر گیا اس حال میں کہ وہ عدت میں تھی تو شوہر کا وارث بنیگی۔
تشریح شوہر مرض الموت میں مبتلا تھا اس حال میں بیوی کو طلاق بائنہ دی ۔ابھی وہ عدت ہی میں تھی کہ شوہر کا انتقال ہو گیا تو عورت شوہر کے مال کا وارث ہوگی۔طلاق کی وجہ سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔
وجہ اثر میں ہے کہ وہ وارث ہوگی۔فقال عبد اللہ بن زبیر طلق عبد الرحمن بن عوف تماضر بنت الاصبغ الکلبیة فبتھا ثم مات وھی فی عدتھا فورثھا عثمان قال ابن الزبیر واما انا فلا اری ان ترث مبتوتة(ب) (سنن للبیہقی ، باب ماجاء فی
حاشیہ : (الف) حضرت شعبی نے فرمایا نیت کی ضرورت اس میں ہے جو پوشیدہ ہو۔بہر حال جو ظاہر ہو اس میں نیت کی ضرورت نہیں۔دوسرے اثر کا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت حسن نے فرمایا کوئی آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے اور تین کی نیت کرے تو ایک طلاق واقع ہوگی(ب) حضرت عبد اللہ بن زبیر نے فرمایا کہ عبد الرحمن بن عوف نے تماضر بنت اصبغ کلبیہ کو طلاق بائنہ دی پھر وفات پا گئے اس حال میں کہ وہ اپنی عدت میں تھی۔تو حضرت عثمان نے اس کو وارث بنایا۔حضرت عبد اللہ بن زبیر نے فرمایا بہر حال میں تو نہیں سمجھتا ہوں کہ بائنہ عورت کو وارث بناؤں۔