]١٩٥٩[(٧٥) وان طلقت نفسھا ثلثا وقد اراد الزوج ذلک وقعن علیھا]١٩٦٠[(٧٦) وان قال لھا طلقی نفسک متی شئت فلھا ان تطلق نفسھا فی المجلس وبعدہ]١٩٦١[ (٧٧) واذا قال لرجل طلق امرأتی فلہ ان یطلقھا فی المجلس وبعدہ]١٩٦٢[(٧٨) وان
]١٩٥٩[(٧٥)اور اگر عورت نے اپنے آپ کو تین طلاقیں دی اور شوہر نے ان کا رادہ کیا تو اس پر تینوں واقع ہوںگی۔
تشریح شوہر نے بیوی سے طلقی نفسک کہا تھا۔اس کی وجہ سے عورت نے اپنے اوپر تین طلاقیں دیدی تو تینوں واقع ہو جائیںگی۔
وجہ طلقی امر کا صیغہ ہے۔اور اس میں مصدر پوشیدہ ہے۔ اور مصدر جنس ہے جو آخری عدد تین کا احتمال رکھتا ہے۔اس لئے اس احتمال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شوہر اس کی نیت کرے اور عورت تین طلاقیں دے تو واقع ہو جائیںگی (٢) اثر میں ہے۔عن ابن عباس فی رجل قال لامرأتہ امرک بیدک فقالت انت طالق ثلاثا فقال ابن عباس خطاء اللہ نوء ھالوقالت ،انا طالق ثلاثا لکان کما قالت (الف) ( مصنف ابن ابی شیبة ٥٥ ماقالوا فیہ اذا جعل امر امرأتہ بیدھا فتقول انت طالق ثلاثا ، ج رابع ،ص ٩٠، نمبر ١٨٠٨٢) اس اثر میں ہے کہ عورت نے تین طلاق دی تو حضرت عبداللہ ابن عباس نے تینوں واقع کی۔البتہ چونکہ اس میں بھی عورت کو طلاق دینے کا مالک بنایا ہے اس لئے مجلس کے ساتھ خاص ہوگی۔
]١٩٦٠[(٧٦)اور اگر عورت سے کہا اپنے آپ کوطلاق دے دو جب چاہو تو اس کو اختیار ہے کہ اپنے کو طلاق دے مجلس میں اور اس کے بعد۔
تشریح اس عبارت میں صرف اتنا نہیںکہا کہ اپنے آپ کو طلاق دے بلکہ کہا کہ جب چاہو طلاق دے لو تو مجلس کے بعد بھی طلاق دے سکتی ہے۔
وجہ متی شئت جب چاہو کا لفظ مجلس اور غیر مجلس کے لئے عام ہے۔اس لئے مجلس کے بعد بھی طلاق دے سکتی ہے۔
]١٩٦١[(٧٧)اگر کسی آدمی سے کہا میری بیوی کو طلاق دے دو تو اس کو اختیار ہے کہ طلاق دے مجلس میں اور مجلس کے بعد بھی۔
وجہ بیوی کے علاوہ دوسرے آدمی کو طلاق دینے کے لئے کہا تو یہ مالک بنانا نہیں ہے بلکہ طلاق دینے کا وکیل بنانا ہے ۔اور وکالت مجلس کے ساتھ خاص نہیں ہوتی اس لئے مجلس کے بعد بھی طلاق دے سکتا ہے۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ طلاق کا مالک بنانا مجلس کے ساتھ خاص ہوتا ہے۔اور طلاق دینے کا وکیل بنانا مجلس کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
]١٩٦٢[(٧٨)اور اگر کہا بیوی کو طلاق دو اگر چاہو تو اس کو طلاق دے سکتا ہے مجلس میں خاص طور پر۔
تشریح کسی آدمی سے شوہر نے کہا کہ اگر تو چاہے تو میری بیوی کو طلاق دیدے۔تو اس صورت میں صرف مجلس تک طلاق دینے کا اختیار ہے گا
حاشیہ : (الف) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کوئی آدمی اپنی بیوی سے کہے تمہارا معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔پس عورت نے کہا تجھ کو طلاق ہے تین ۔تو ابن عباس نے فرمایا اللہ اس کو سزا دے اگر عورت کہتی مجھ کو طلاق ہیں تین تو ایسے ہی ہوتا جیسی کہتی۔