Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 3 - یونیکوڈ

123 - 448
نفسک کانت واحدة بائنة ولایکون ثلثا وان نوی الزوج ذلک]١٩٥٧[(٧٣) ولا بد من ذکر النفس فی کلامہ او فی کلامھا]١٩٥٨[(٧٤) وان طلقت نفسھا فی قولہ طلقی نفسک فھی واحدة رجعیة۔
فتقول انت طالق ثلاثا ج رابع، ص ٩٠، نمبر ١٨٠٨٦ مصنف عبد الرزاق ، باب المرأة تملک امرھا فردتہ ھل تستحلف؟ ج سادس ص ٥٢١ نمبر ١١٩١٧) اس اثر سے معلوم ہوا کہ تین طلاقیں دے پھر بھی ایک ہی واقع ہوگی (٢) یہ لفظ اسم جنس نہیں ہے جو تین کا احتمال رکھے۔اس لئے ایک ہی واقع ہوگی ۔
نوٹ  اور اگر شوہر کو اختیار کرلے تو کچھ واقع نہیں ہوگی۔  
وجہ  حدیث میں ہے ۔ عن عائشة قالت خیرنا رسول اللہ  فاخترنا اللہ ورسولہ فلم یعد ذلک علینا شیء (الف) (بخاری شریف ، باب من خیر ازواجہ ص ٧٩١ نمبر ٥٢٦٢ ابو داؤد شریف، باب فی الخیار ص ٣٠٧ نمبر ٢٢٠٣) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شوہر کو اختیار کر لے تو کچھ واقع نہیں ہوگی۔
]١٩٥٧[(٧٣)اور ضروری ہے لفظ نفس کا ذکر کرنا شوہر کے کلام میں یا بیوی کے کلام میں۔  
وجہ  لفظ اختاری کنایہ ہے،شوہر اور بیوی دونوں میں سے کسی کے کلام میں نفس کا لفظ نہ ہو تو اختاریکے معنی طلاق کے علاوہ کسی اور چیز کا اختیار کرنا ہوجائے گا۔ اس لئے دونوں میں سے کسی ایک کے کلام میں نفس کے لفظ کا ذکر کرنا ضروری ہے (٢) اوپر اثر میں نفس لفظ مذکور ہے۔عن علی انہ کان یقول ان اختارت نفسھا (سنن للبیہقی ، باب ماجاء فی التخییر ج سابع، ص٥٦٧، نمبر ١٥٠٣١)اس اثر میں نفسھا کا لفظ موجود ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ دونوں میں سے ایک کے کلام میں تفسیر کے سے نفس کا لفظ موجود ہو۔
]١٩٥٨[(٧٤) اور اگر اپنے آپ کو طلاق دی اس کے قول  طلقی نفسک  میں تو وہ ایک رجعی ہوگی۔  
تشریح  شوہر نے بیوی سے کہا کہ اپنے آپ کو طلاق دیدو۔ پس عورت نے اپنی اس اختیار سے اپنے آپ کو طلاق دی تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی ۔
 وجہ  طلقی  کا لفظ صریح ہے اور صریح سے ایک طلاق رجعی واقع ہوتی ہے اس لئے اس لفظ سے عورت نے طلاق دی تو ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔دلیل پہلے گزر چکی ہے۔عن علی اذا ملک الرجل امرأتہ مرة واحدة فان قضت فلیس لہ من امرھا شیء وان لم تقض فھی واحدة وامرھا الیہ(ب) (سنن للبیہقی ، باب ماجاء فی التملیک ج سابع ،ص ٥٧١، نمبر ١٥٠٤٧) اس اثر میں ایک ہی طلاق رجعی واقع کی۔

حاشیہ  :  (الف) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہمیں حضورۖ نے اختیار دیا تو ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیا تو ہم پر کچھ واقع نہیں ہوئی(ب) حضرت علی نے فرمایا اگر مرد نے بیوی کو ایک مرتبہ مالک بنایا ۔پس اگر فیصلہ کرے تو مرد کو اختیار نہیں ہے ۔اور اگر نہیں فیصلہ کرے تو ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔


Flag Counter