طلقی نفسک فلھا ان تطلق نفسھا مادامت فی مجلسھا ذلک فان قامت منہ او اخذت فی عمل آخر خرج الامر من یدھا]١٩٥٦[(٧٢) وان اختارت نفسھا فی قولہ اختاری
وجہ مجلس کے ساتھ اختیار خاص ہوگا اس کی دلیل یہ اثر ہے۔عن مجاھد فی قول ابن مسعود قال اذا ملکھا امرھا فتفرقا قبل ان تقضی شیئا فلا امر لھا( نمبر ١١٩٢٩)اور دوسرے قول میں ہے۔عن مجاھد قال اذا خیر الرجل امرأتہ فلم تخیر فی مجلسھا فلیس بشیء (الف)(مصنف عبد الرزاق ، باب الخیار والتملیک ماکانا فی مجلسھما ج سادس ص ٥٢٤ نمبر ١١٩٣٠ مصنف ابن ابی شیبة ٥٨ ماقالوا فی الرجل یخیر امرأتہ فلا تختار حتی تقوم من مجلسھا ج رابع ،ص ٩٢، نمبر ١٨١٠٤) اس اثر سے معلوم ہوا کہ مجلس تک ہی طلاق دینے کا اختیار رہے گا (٢) اس اختیار میں عورت کو طلاق کا مالک بنانا ہے اور مالک بنانے کا جواب مجلس میں چاہئے ورنہ قبول کرنے کا اختیار نہیں رہتا جیسا کہ بیع میں ہوتا ہے اس لئے مجلس کے بعد اختیار نہیں رہے گا۔
]١٩٥٦[(٧٢)پس اگر عورت اختیار کرلے اپنے آپ کو اس کے قول اختاری نفسک میں تو ایک طلاق بائنہ ہوگی۔اور تین نہیں ہوگی اگر چہ شوہر اس کی نیت کرے۔
تشریح شوہر نے عورت سے اختاری نفسک کہا تھا۔اس صورت میں عورت نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا یعنی اپنے آپ کو شوہر سے جدا کر لیا تو اس سے ایک طلاق بائنہ واقع ہو گی۔لیکن اس لفظ سے عورت تین طلاقیں دینا چاہے تو نہیں دے سکتی چاہے شوہر نے تین کی نیت کی ہو۔
وجہ (١) یہ لفظ کنایہ ہے اور کنایہ سے طلاق بائنہ واقع ہوتی ہے۔اس لئے اختاری لفظ سے بھی طلاق بائنہ واقع ہوگی (٢) اثر میں ہے ۔ عن علی انہ کان یقول ان اختارت نفسھا فواحدة بائنة وان اختارت زوجھا فلا شیء (ب) (سنن للبیہقی ، باب ماجاء فی التخییر ج سابع ،ص ٥٦٧، نمبر ١٥٠٣١ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الخیار ص ٢٢٣ نمبر ١١٧٩ مصنف عبد الرزاق ، باب المرأة تملک امرھا فردتہ ھل تستحلف ج سادس ص ٥٢١ نمبر ١١٩١٥) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ایک طلاق بائنہ واقع ہوگی۔
اور تین کی نیت کرے پھر بھی تین واقع نہیں ہوگی اس کی دلیل یہ اثر ہے۔عن علقمة قال کنت عبد اللہ بن مسعود فاتاہ رجل فقال ... فقلت لھا ھی بیدک قالت فانی قد طلقتک ثلاثا قال عبد اللہ ھی تطلیقة واحدة وانت احق بھا قال فذکرت ذلک لعمر فقال لو قلت غیر ذلک لرأیت انک لم تصب (ج) (مصنف ابن ابی شیبة ٥٥ ماقالوا فیہ اذا جعل امرأتہ بید ھا
حاشیہ : (الف)حضرت مجاہد نے حضرت ابن مسعود کے قول کے بارے میں فرمایا،اگر عورت کو اس کے معاملے کا مالک بنایا جائے پھر جدا ہو جائے کسی بات کا فیصلہ کئے بغیر تو اب عورت کو اختیار نہیں ہوگا۔دوسرے قول میں حضرت مجاہد نے فرمایا اگر مرد نے بیوی کو اختیار دیا پھر عورت نے مجلس میں اختیار نہیں کیا تو اب کوئی اختیار نہیں ہوگا(ب) حضرت علی فرماتے ہیں کہ اگر عورت نے اپنے آپ کو اختیار کیا تو ایک بائنہ ہوگی ۔اور اگر شوہر کو اختیار کیا تو کچھ نہیں ہوگا (ج) عبد اللہ ابن مسعود کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا ... پس شوہر نے کہا کہ یہ یعنی طلاق تیرے ہاتھ میں ہے،عورت نے کہا میں نے اپنے آپ کو تین طلاقیں دیں ،حضرت عبد اللہ نے کہا ایک طلاق واقع ہوگی۔ اور آپ اس سے رجعت کر سکتے ہیں ۔ میں نے حضرت عمر سے اس کا تذکرہ کیا تو فرمایا اگر آپ اس کے علاوہ فتوی دیتے تو میں سمجھتا کہ آپ نے صحیح نہیں کہا